مرکزی صفحہ / Uncategorized / امراض سے بچائو کا آسان راستہ

امراض سے بچائو کا آسان راستہ

صحت اور مرض کا دامن چو لی کا ساتھ ہے اور ان میں آنکھ مچولی ابتدائے انسان سے ہی کھیلی جارہی ہے۔ اچھی صحت کا دارومدار معیاری متوازن اور ملاوٹ سے پاک غذائیت سے بھر پور خوراک پر ہوتا ہے۔ جبکہ حفظان صحت کے اصولوں سے روگردانی کر کے ہم بیماری کو خود ہی دعوت دیتے ہیں۔ بیماری کو دعوت دینے والی بات بڑی عجیب سی لگتی ہے۔ بھلا ہم میں سے کون ہے جو صحت مند زندگی نہیں گزارنا چاہتا؟ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ زندگی کی تمام تر بہار یں موجیں سہولتیں او آسائشیں تن درستی کے ساتھ ہی دل کو بھاتی ہیں۔ حالت مرض میں تو بعض اوقات انسان کو اپنے آپ سے بھی بیزاری سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ روزمرہ حالات میں ہلکی پھلکی بیماریاں آتی اور جاتی رہتی ہیں حتی کہ اب تو یار لوگوں نے دور جد ید کے مہلک امراض کے ساتھ بھی سمجھوتہ تک کر لیا ہے۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب، امراض گردہ ،امراض جگر اور کولیسٹرول جیسے جان لیوا امراض کے ساتھ ساتھ بھر پور جینے کا حوصلہ بھی پیدا کر لیا ہے۔ بعض امراض ایسے ہیں جن سے ہماری اس قدر جان پہچان ہوگئی ہے کہ وہ خطر نا ک ہونے کے باوجود ہمیں خطرناک محسوس نہیں ہوتے بلکہ ہم غذا پر ہیز کے انتخاب اور دوا کے با قاعدہ استعمال سے ان امراض کے اثرات بد سے خود کو بچانے میں کامیاب رہتے ہیں بعض طبی ماہرین
کے نزدیک جب تک انسان فطرت اور فطری اصولوں کا پیرو کار ہا وہ کافی حد تک موذی اور مہلک امراض کے حملوں سے محفوظ رہا لیکن جب سے سائنسی ارتقا ءر وپزیر ہونے لگا ہے نت نئے امراض کی پیدائش و افزائش ہو کر انسانیت کو مسائل و مشکلات یہاں تک کہ موت سے دوچار کرنے لگی ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت گزشتہ دو اڑھائی صدیوں سے حملہ آور ہونے والی مائیکروسکوپی اور وبائی بیماریاں ہیں جن سے لاکھوں، ہزاروں اور سینکڑوں انسان موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ ان بیماریوں کی پیدائش وافزائش کا ذر یعہ ایک مائیکروسکوپی ذرہ وائرس بنتا چلا آرہا ہے۔ جدید طبی ماہرین کے مطابق وائس ایک ایسازیر یلا مائیگر خور دبینی طفیلی ذره Obligatory ہے جو جاندار اجسام میں عفونت Infaction پیدا کر کے انہیں نا کارہ کرنے کا باعث بنتا
ہے۔ وائرس یونانی اور لاطینی زبانوں سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی زہر ہے۔ وائرس ایک ایساز بر یلا ذرہ نما خلیہ ہے جسے اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسرے جاندار جسم کے RNA/DNA کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے وائرسز کو Obligatory
intraceeular parasites کہا جاتا ہے۔ وائرس کی خلیاتی اور جنیاتی ساخت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ پروٹین سنتھیسس کے ذریعے اپنی افزائش یانشو ونماکر سکیں وائرس Prokaryotic او حقیقی المركز Eukaryotic دونوں طرح کے خلیات میں عفونت یا مرض پیدا
کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وائرس سے پھیلنے والی بیماریاں :۔ وائرس طفیلیہ ہونے کی وجہ سے انسانوں اور حیوانوں کے ساتھ بیکٹیریاز میں بھی بہت سے امراض کا سبب بنتے ہیں۔ وائرس سے پیدا ہونے اور پھیلنے والی مشہور بیماریوں میں نزلہ ،زکام ، پو لیو فلو، ایڈز، برڈ فلو، سارس ،ز یکا سائن فلو اور کرونا وغیرہ شامل ہیں
1980 کی دہائی میں بن مانسوں سے ایڈز کا موذی اور مہلک مرض سامنے آیا جسے طبی ماہرین نے HIV کا نام دیا ہے۔ سانس کی شدید تکلیف پیدا کرنے والا سارس وائرس 2003ء میں پھیلا اور اس نے انسانوں کو بری طرح متاثر کیا۔ 2004ء سے 2007 ءکے درمیانی عرصے میں ایو ئین فلو، برڈ فلو نودار ہوا اور اپنی ہلاکت خیزی سے کئی جانیں نگل گیا۔ برڈ فلو جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہورہا ہے یہ پرندوں کی وجہ سے پھیلا تھا۔ 2009ء
میں سور کی وجہ سے پھیلنے والے سوائن فلو کی وبا نے کافی تباہی مچائی۔ 2014ء میں ایبولا ،2016ء میں زیکا وائرس اور 2018ءمیں نیفا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا اور اہل دنیا کے ناک میں دم کیے رکھا۔ ایک صدی قبل ہسپانوی فلو کی وبا کی وجہ سے تقریبا 50 کروڑ لوگ متاثر ہوئے ۔ اب تک جتنے وائرس یا وبائی امراض کا پھیلاؤ سا منے آیا ہے ان میں ایک قدر مشترک رہی وہ یہ
کہ یہ سبھی جنگلی حیات کے باعث رونما ہوئے۔ ماحولیاتی ماہرین ان وباؤں کے پھوٹنے کا سبب تیزی کے ساتھ ماحول کی آلودگی اور درختوں کی کمی بتارہے ہیں۔ دنیا بھر کے حکمرانوں کو معاملے کے اس پہلو پر بھی دھیان دینا چاہیے۔ جنگلات لگانے اور درختوں کی حفاظت کا ٹاسک تن دہی اورمکمل ذمے داری سے پورا کیا جانا چاہیے۔ اگر ماضی میں جھانکا جائے تو ڈیڑھ دو صدیاں قبل مندرجہ بالا بیماریوں اور وبائی امراض کا نام ونشان تک نہیں تھا اور انسانیت سکون وچین سے زندگی بسر کرتی تھی۔ وبائی امراض کی افزائش اور پھیلا و بارے ماہرین کوغور وخور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اگر بنظر عمیق دیکھا جائے تو یہ مسلمہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب سے حضرت انسان نے ارتقائی مراحل کے سفر کا آغاز کیا ہے تب سے وہ نت نئی ایجادات کے ساتھ ساتھ آئے روز مختلف شکلوں میں مسائل اور مصائب میں گھرتا چلا جارہا ہے۔ جوں جوں مادی بلندیوں کو قابل تسخیر بنایا جانے لگا ہے توں توں روحانی پریشانیوں کا گراف بھی بڑھتا جارہا ہے۔ مائیکروسکوپی اور مائیکروبائیولوجی کی حدود میں داخل ہونے کے بعد بیماریاں بھی اسی شدومد اور تند و تیز حملہ آور ہو کر ہماری تمام تر سائنسی تسخیرات کا منہ چڑانے لگتی ہیں طبی ماہرین ابھی کسی مہلک بیماری کے خلاف جنگ جیتنے کے قریب قریب ہی ہونے لگتے ہیں کہ کوئی دوسرا خطرناک ترین مرض نمودار ہو کر آنا فانا ھماری
کامیابیوں پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے؟ آئے روز کرہ ارض پر حملہ آور ہونے والے ان بے لگام و بے قابو امراض کی پیدائش اور افزائش بارے اگر بغیر کسی تعصب کے غور کیا جائے تو فوری ایک ہی حقیقت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور وہ ہے فطرت کے اصولوں سے روگردانی ! فطرت جد ت کی قطعی طور پرنفی نہیں کرتی بلکہ وہ تو دور جدید کی تمام تر ایجادات پر ان کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے وجود کی مہر ثبت کرتی
طبی ماہرین اور موجودہ وبائی مرض کو رونا کے تناظر میں یہ حقائق روز روشن کی طرح ابھر کے سامنے آئے ہیں کے اس طرح کے تمام مائیکرو امراض کمزور قوت مدافعت والے افراد کو متاثر کرتے ہیں مضبوط قوت مدافعت کے حاملین کو بعض اوقات پتہ بھی نہیں چلتا کہ کسی بیماری
نے ان پر حملہ کیا ہے۔ بدن کا مضبوط خودکار دفاعی نظام حملہ کرنے والے کسی بھی جراثیم یاوائرس کو بدن پر مسلط ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔ بدن انسانی کا دفاعی نظام جسے قوت مدافعت کا نام دیا جاتا ہے کا تمام تر انحصار متوازن معیاری اور غذائیت سے بھر پور خوراک کے ساتھ ساتھ متحرک اور فعال میٹا بولزم پر ہوتا ہے۔ میٹابولزم کے متحرک رہنے کے لیے ہمارے معمولات زندگی کا فعال اور بھرپور ہونا لازم
ہے۔ سہل پسندی تن آسانی ، بسیار خوری ،غیر معیاری، ملاوٹ شدہ اور مصنوعی غذائیں میٹابولزم کی کارکردگی کو خراب کرنے اور مختلف مہلک ، موذی اور وبائی امراض کے حملوں کی راہ ہموار کرنے کا سب سے بڑا سبب بنتی ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ ہم آج بھی معیاری متوازن، ملاوٹ سے پاک اور قدرتی غذاؤں کا استعمال کر کے ہرطرح کے موسمی و وبائی امراض سے خاطر خواہ حد محفوظ رہ سکتے ہیں۔ معیاری اور ملاوٹ سے پا ک غذاؤں کی دستیابی انتظامی سطح پر یقینی بنائے جانے کا ایک مستقل میکنزم بنایا جائے ۔ معیاری اور ملاوٹ سے پا ک غذاؤں کی ابتداگلی محلوں میں کریا نہ سٹورز اور خوانچہ فروشوں سے کی جائے۔ منافع خوری اور ہوس پرستی کے رسیا افراد غیر معیاری خورونوش کی اشیاء زیا دہ منافع کے چکر میں بیچ کر بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں ۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ معدودے چند قابل بھروسہ اور معیاری مصنوعات کے علا وہ مارکیٹ میں بچوں کے استعال کی خورونوش کی غیر معیاری اشیاء کی بھر مار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ کلینکس اور ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھتا جارہا ہے۔ اکثر خاندانوں کی نصف کمائی تو بچوں کے علاج معالجے میں ہی صرف ہو جاتی
ہے۔ امراض سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ سر کاری سطح پر میڈ یاپر حفظان صحت کے اصولوں بارے شعورصحت کی مہم شروع کی جائے۔ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹریز اور مالکان کو چاہیے کہ تمام چینل پر روزانہ کی بنیا د پر صحت افزا غذا اور پرہیز بارے غذائی ماہرین کے مشورے اور
آرا نشر کی جائیں۔ گھر یلو بنیاد پر روز مرہ پن میں استعمال کیے جانے والے غذائی اجزاء جیسے، ادرک، دار چینی ،سونف، اجوائن ، کالی مرچ، زیرہ سیاہ ، جائفل،جلوتری ، تیز پات،
الا ئچی ، بڑی الا ئچی لہسن، پیاز، پودینہ، دھنیا، ہلدی اور لونگ وغیرہ کے طبی خواص فوائد اور استعمال بارے عوام الناس کو آگاہ کیا جائے ۔ اسی طرح سبزیوں اور پھلوں کے خواص فوائد اور استعمال بارے بھی معلومات عام کی جانی چاہیے۔ نیز یی بھی بتایا جائے کہ کس مرض میں کون کون سی سبزیاں بہتر فوائد کا ذریعہ ہیں اور کون سی سبزیاں کن امراض میں خرابی کاباعث بن سکتی ہیں۔ اس طرح پھلوں کی طبی خصوصیات کا مرض وصحت کے حوالے سے تذکرہ بھی روزانہ کی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں ملکی سطح پر قدرتی طور پر پیدا ہونیوالی ان گنت نباتات کی شفائی خصوصیات سے استفادہ کرتے ہوئے اربوں روپوں کا زر مبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔ یقین مانیں بڑھتے ہوئے امراض کی یلغار سے بچاؤ اور صحت مند زندگی کا یہ آسان ترین راستہ بھی ہے اور حکومت کی ذمے داریوں میں کمی کا باعث بھی۔ جب تک عوام الناس میں شعور صحت اجاگر نہیں ہوگا ہمیں نت نئی بیماریاں اپنی لپیٹ میں لے کر پریشان کرتی رہیں گی اور حکومتی سطح پرصحت کے مسائل کا کوئی پانیدا حل نہیں نکالا جا سکے گا۔

ا

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

کورونا سے حفاظت:۔متوازن خوراک استعمال کریں۔

وبائی امراض کرہ ارض پر کوئی نئی یا اچنبھے کی چیز نہیں ہیں۔اٹھاروی صدی سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے