مرکزی صفحہ / کرنٹ افئیر / جنسی امراض ایک حقیقت یا محض ایک پراپیگنڈہ

جنسی امراض ایک حقیقت یا محض ایک پراپیگنڈہ

کسی بھی مرض کے تین پہلو ہوا کرتے ہیں جسمانی روحانی اور نفسیاتی جسمانی پہلو سے تو ہمیں اکثر بی واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ ہم عام طور پر گھریلو تراکیب آزما کر یا کسی معالج سے مل کر صحت یابی کی کوشش کرتے ہیں اور کسی حد تک مرض سے خلاصی پاپی لیتے ہیں کبھی کبھار روحانی مسائل بھی سر اٹھا لیتے ہیں اور ہم کسی دم درود کرنے والے سے دم کروا کر اس سے بھی پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ لیکن نفسیاتی بیماریوں سے چھٹکارا پانا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ خاص کر جب کوئی دوسرا آپ کے ذہن میں شبہ اور وہم ڈال دے کہ آپ تو بیمار ہیں۔ اس حقیقت سے سب ہی متفق ہیں کہ جدید سائنسی ترقی نے ہر مرض کا علاج کسی نہ کسی شکل میں دریافت کرلیا ہے مگر وہم واحد بیماری ہے جس کی کوئی دوا دارو جھاڑ پھونک اور علاج نہ سامنے آ سکا ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق تین خواشات ایسی ہیں جن میں روز بروز اضافہ تو ہوتا ہے مگر کمی مکن نہیں۔ مال وزر کی ہوس ، ناموری کا جنون اور اعصابی طاقت میں اضافے کی تمنا، یہ وہ ہواس ہیں جن پر قابو پانے میں ہر طرح کا علاج معالجہ ٹوٹکے اور جھاڑ پھونک بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔ انسان کی جبلت میں شامل ہے کہ جہاں کہیں بھی اس کی ذات کی بات ہو وہ وہیں متجسس ہو جاتا ہے۔ زیرنظر مضمون میں معاشرے میں بڑھتے ہوئے غیر اخلاقی عوارض کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ پوشیدہ امراض کا کوئی وجود بھی ہے یا صرف عطائی اور نیم حکیم اور نان پرو فیشنلز معاشرے کے معصوم افراد کی نفسیات سے کھیلتے ہوئے انہیں پوشیدہ امراض میں مبتلا کرنے پر تلے ہوئے ہیں تولیدی نظام انسانی وجود کا ایک لازمی جز اور افزائش نسل کا ذریعہ ہے۔ افزائش نسل تولیدی نظام کے بغیر ناممکن ہے۔لہٰذا اب مذہبی حد و دو قیود، معاشرتی رسم ورواج اور سماجی تقاضوں کو نبھاتے ہوئے مردوعورت کے مابین مذہبی اصول و ضوابط کے تحت ملاپ نکاح ، سماجی و معاشرتی رسم ورواج کے مطابق بندھن کی استواری کو شادی کہا جاتا ہے۔ بدنصیبی سے ہمارے یہاں معدودے چند لوگ اپنی چرب زبانی ، لفاظی اور نفسیاتی حربوں سے پورے معاشرے کو ذہنی طور پر اپنے زیر اثر لیے ہوئے ہیں ۔ شعبہ طب میں مبینہ چھپی کالی بھیڑوں نے تولیدی نظام اور پوشیدہ امراض کو اس انداز میں پیش کرنا شروع کردیا ہے کہ معاشرے کا ہرفر دبی اپنے تئیں مریض سمجنھے لگا ہے۔ دیواروں سے لے کر اخباروں تک، ٹی وی سے لے کر ریڈ یوتک، بسوں ۔ ویگنوں، چوک چوراہوں الغرض آپ جدھر کا بھی رخ کر لیں آپ کو یہ نام نہاد معالجین اپنے نت نئے دعووں اور سلوگن کے ساتھ آپ کی کمزوریاں دور کرنے کی غرض سے موجود ہو نگے ۔

پوشید ہ امراض بھی دیگر بیماریوں کی طرح بنیادی اسباب کے باعث ہی ہوا کرتے ہیں ۔ اگر سبب کو دور کر دیا جائے تو مرض بھی ختم ہو جایا کرتا ہے۔ پوشیدہ امراض کا علاج بھی عام اصول علاج کے تحت ہی کیا جاتا ہے۔ قارئین ! طبی ماہرین کی ایک جماعت تو پوشیدہ امراض کے وجود کوسرے سے مانتی ہی نہیں۔ کسی حد تک یہ بات قرین قیاس ہے کیونکہ بازار میں اعصابی قوت میں اضا نے کے لیے دستیاب ادویات با لواسته یا بلا واسته نشیلے ممسک اورمسکن اجزا سے تیار کی جاتی ہیں جو کہ دماغی صلاحیتوں کو سست کر کے ہی اپنا اثر دکھا پاتی ہیں ۔ بعض ادویات میں اسٹیرائیڈز اور کشتہ جات وغیرہ کی آمیزش بھی ہوتی ہے جو کہ فوری یا آہستہ آہستہ گردوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اگر خدائی بات کی جائے تو پوشیدہ امراض کا ہوا پیدا کیا جارہا ہے نوجوان نسل کو پوشیدہ امراض کی آڑ میں ذہنی مریض بنانے کی باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے جو مستقبل میں خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوسکتی ہے۔ نفسیاتی اور ذہنی طور پر مفلوج کرنے کے لیے پراپیگنڈہ مہمیں ہم روزانہ کیبل ٹی وی پر تواتر سے دیکھتے ہیں مشہور اور معاشرے میں مقبول لوگوں کو معاوضہ دے کر من پسند الفاظ کہلوائے جارہے ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی پراپیگنڈہ مہم ہے جس کے ذریعے سے ہماری نئی نسل کی شعوری صلاحیتوں کو زنگ آلود کیے جانے کی کوشش سعی پیہم کی شکل میں جاری ہے۔ الله پاک ہمیں اور ہماری نوجوان نسل کو اس انسان دشمن سازشی مہم سے اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ نیند درکار ہوتی ہے

مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ نییند درکار ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صبح …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے