مرکزی صفحہ / پامسٹری / دست شناسی اور چند وضاحتیں

دست شناسی اور چند وضاحتیں

بعض افراد علم دست شناسی کی اہمیت اور علمی صداقت سے انکار کرتے ہوئے ہمیں بڑے عجیب وغریب قسم کے پیغام بھیجتے رہتے ہیں ۔ وہ شاید ہمیں فلسفہ تقدیر سے انکاری خیال کرتے ہیں لیکن ہم مقدر سے انکاری ہر گز نہیں ہیں بلکہ ہم تو اس ایمان و ایقان کے حامل ہیں کہ مقدر قسمت، اور تقد یرایک ایسی طاقتور ذات کے قبضہ قدرت میں ہے جو انسانی زندگی پر مکمل قابو رکھتی ہے۔ اس طاقتور ذات بابرکات کو ہم خدائے بزرگ و برتر کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ یہی بزرگ و برتر ذات ہی اپنی کتاب فرقان میں فرمارہی ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو وہ کوشش کرتا ہے یاد رکھیں مذہب ہمیں بے عملی کی ترغیب ہرگز نہیں دیتا بلکہ وہ تو انسان کو عمل پیہم کا درس دیتا ہے کیونکہ عمل پرہی انسان کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ مرحوم علامه محمد اقبال نے بڑے خوبصورت انداز میں اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے۔

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔۔۔ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ناری ہے۔

ہم یہاں یہ وضاحت بھی کرتے چلیں کہ عالم دست شناسی غیب کی خبریں نہیں دیتا بلکہ یہ ایک اسلوب زبان ہے جو ہمیں ہمارے ہاتھوں میں لکھی تحریروں سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک سائنسی اور مشاہداتی علم ہے جو ماہرین کے مشاہدات اور سائنسی کسوٹیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا ہے۔ ایک ایسا علم جو ہمیں فطرت کے رازوں سے روشناس کرواتا ہے۔ یوں ہم دست شناسی کوفطرت کی زبان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ دست شناسی ایک ایسی زبان جسے ہم میں سے ہر کوئی نہیں جانتا۔ اس کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسا کہ جو شخص انگریزی زبان پڑھنا نہیں جانتا اسے وہ لکیر یں ہی دکھائی دیں گی اور جے انگریزی زبان لکھنا پڑھنا آتی ہے وہ اس کے مفہوم و معانی سے پوری طرح واقف ہوگا۔ دست شناسی کومزید آسان فہم کرنے کے اسے ہم کمپیوٹر سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ یوں ہم انسانی دماغ کو CPU اور ہتھیلی کو مانیٹر کا درجہ دے کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح مانیٹر پر کچھ بھی دیکھنے کے لیے ہمیں کمانڈ CPUمیں فیڈ کرنی پڑتی ہے بالکل اسی طرح ہمارا دماغ جو مسلسل سو چیں یا منصوبے بناتا رہتا ہے یا ہمارا شعور جن سوچوں کو اپنے اندر سٹور کرتارہتا ہے ایک مدت کے تواتر کے بعد وہی سوچ ، خوانش با منصوبہ ہمارے ہاتھوں پر کسی علامت کی صورت نمودار ہو جاتا ہے۔ یوں ایک ماہر دست شناس اس علامت کا تر جمہ کر کے حامل دست کو بتا رہا ہوتا ہے۔ قارئین !علم دست شناسی واحد مظلوم شعبہ ہے جسے عام آدمی سے لیکر عالم فاضل قسم کے لوگوں کی طرف سے طعن تشنیع کا سامنا رہتا ہے۔ بہت سارے اعتراضات کے ساتھ ایک طعنہ جودست شناسوں کو بڑے تواتر سے دیا جاتا ہے وہ یہ کہ دوسروں کی قسمت کا حال بتانے والے اپنے حالات کیوں نہیں بدل سکتے ؟ ہم یہاں یہ وضاحت کے دیتے ہیں علم و آگئی اور شعور ودانش کا دولت مندی و خوشحالی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تاریخ کے جھروکے میں ذرا سا جھانک کر دیکھا جائے تو ہم پر یہ حقیقت وا ہوتی ہے کہ سقراط وبقراط سے لیکر ارسطو و آرمیدش تک احباب علم و دانش بغیر کسی بنک بیلنس، بنگلہ کار اور کوٹھی کے آج تک شعور و آگی کے مینارہ نور کی حیثیت سے جانے اور مانے جاتے ہیں۔ دست شناسوں کو اپنی حالت سدھارنے کے مفت مشورے دینے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ رات کی تاریکیوں میں اجالوں کے رنگ بھرنے والا چاند اپنے چہرے پر لگے داغ نہیں مٹا سکتا۔ کوئی پھل دار درخت اپنا پھل بھی نہیں کھا سکتا۔ سایہ دار درخت دھوپ میں جل کر دوسروں کو ٹھنڈی چھاؤں مہیا کرتا ہے لیکن خوداس سے محروم رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ خالق کائنات نے تمام مخلوقات کے ذ مےچند ذمے داریاں لگارکھی ہیں ۔ جنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ہر کوئی نبھانے کا پابند ہے۔ جس طرح گندم کے دانے سے چنے کا پورا نہیں اگ سکتا، آم کے درخت پر آڑو کا پھل نہیں آ سکتا بالکل اسی طرح اللہ تعالی نے جس انسان کے زمے جو کام لگایا ہے وہ اسے ہی کرنے کا پابند ہے۔ مبینہ جھوٹے اور مکار لوگوں کی وجہ سے ہمیں علم اور اہل علم کی تحقیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ جو کوئی ، جہاں اور جس حال میں ہے وہ تو اپنے ذمے فرائض کی ادائیگی پر مامور ہے۔ قسمت مقد راور نصیب پر کب اور کس کا بس چلا ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے تھے کہا تھا کہ رب سے جب بھی دعامانگوتو مقدر ماگو عقل نہیں کیونکہ ہم نے بہت سے عقل والوں کو مقدر والوں کے در پر دیکھا ہے۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے