مرکزی صفحہ / کرنٹ افئیر / "دودھ” کے متعلق ایک قابِلِ توجہ بات

"دودھ” کے متعلق ایک قابِلِ توجہ بات

ا یک زمانہ اَیسا بھی آیا تھا کہ "بچے” کو ماں کے دودھ کی بجائے ڈبے کا دودھ پلانے کی تلقین کی جاتی تھی۔۔۔۔طب یونانی کے ماہرین نے اس تحریک کی بھرپور مخالفت کی تھی اور ریڈیو ، ٹی وی اور اخبارات میں چلنے والی اس مہم کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔۔۔ اس وقت حکماء پہ جدید تحقیق سے محروم ہونے کا الزام لگایا گیا اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈبے کا دودھ بہت سے مقوی اور مفید اجزاء کا مرکب ہوتا ہے اور حفظان صحت کے اصولوں کے تحت تیار کیا جاتا ہے جبکہ گھریلو خواتین حفظان صحت کے اصولوں سے نا بلد ہوتی ہیں۔۔۔
لیکن۔۔۔وقت نے ثابت کیا کہ اکابر اطِباء شیخ الرئیس بو علی سینا ، حکیم طبری اور دیگر حاذق حکماء کی صدیوں پرانی تحقیق ہی درست تھی۔۔۔آخر کار فطرت غالب آئی اور بچے کے لئے ماں کے دودھ کو ہی مناسب اور قدرتی بھرپور غذاء کے طور پہ۔۔۔ صحت کے بین الاقوامی اداروں نے بھی تسلیم کر لیا۔۔۔
آج۔۔۔۔۔پِھر ذرائع ابلاغ پہ باقاعدہ مہم شروع کی گئی ہے کہ اپنے استعمال کے لئے گوالوں سے دودھ لینے کی بجائے۔۔۔۔مِلک پیک۔۔۔۔کے سربند دودھ کو ترجیح دی جائے۔۔۔۔قطع نظَر اس بات کے کہ ملک پیک دودھ کے اجزاء کیا ہیں اور وہ کس طرح تیار کیا جاتا ہے۔۔۔
ہمارے پیشہ ورانہ مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ملک پیک استعمال کرنے والے بچے اور بچیاں بہت تیزی سے بلوغت کو پہنچ جاتے ہیں ہارمونز کے نظام میں تبدیلی اسی کا شاخسانہ ہے آپ خود غور کیجئے کہ ماضی میں بلوغت کی اوسط عمر چودہ سال تھی لیکن آج دس سال کے بچے بچیاں بلوغت کے جسمانی عوارضات کا شکار نظر آتے ہیں۔
براہِ کرم اس اہم مسئلے پہ غور کیجئے۔۔۔ قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والا دودھ اگر پانی ملا ہُوا بھی ہو گا تو کیمیکل دودھ کے مقابلے میں بہت بہتر ہو گا۔۔
تحقیق و تحریر:۔ حکیم خلیق الرحمٰن

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں!

سوچ سے خیال، خیال سے نظریہ، نظریہ سے مقصد، مقصد سے تحریک، تحریک سے جستجواورجستجو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے