مرکزی صفحہ / دلچسپ و عجیب / مفیدگھریلو مشورے / قربانی کا گوشت کیسے کھایا جائے

قربانی کا گوشت کیسے کھایا جائے

آمنہ شاہ پاک پتن سے لکھتی ہیں کہ آپ کو سوالات کے جوابات میں گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں ۔ کیا اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ آپ کے مشورے پڑھ کرتو لگتا ہے کہ دنیا جہان کی ساری پیاریاں صرف گوشت کھانے سے ہوتی ہیں ۔ قربانی کے موقع پر گوشت کیسے چھوڑا جائے گا۔ آپ نے تو اپنے پڑھنے والوں کو اچھی خاصی مشکل میں ڈال دیا ہے؟ کیا گوشت کھانے کی کوئی صورت بن بھی سکتی ہے؟ پلیز اس کی وضاحت کرتے ہوئے گوشت بارے پچھتر پر فرما دیں۔

مشورہ: قربانی کا تصور آتے ہی گوشت کے مذ بدار پکوان اور چٹ پٹی ڈشز کا سوچ کر منہ سے رالیں بن گئی ہیں ۔ عید قرباں کو بکرا عید بھی اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس پر بکرے کا گوشت کھانے کو عام ملتا ہے۔ جب گوشت عام ہو گاتو کھانے کو بھی خوب دل چاہے گا محترمہ! اس میں کچھ شک نہیں کہ گوشت ہمارے بدن کی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند آدمی کو روزانہ 100 گرام تک گوشت الا زمی کھانا چاہیے۔ لیکن ستیاناس ہو ہماری روائتی بے اعتدالیوں کا جنہیں اپنا کر ہم کئی ایک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ گوشت خوری سے منع صرف ان مریضوں کو کیا جا تا ہے جن کی بار میں گوشت کھانے سے بڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہاں ہم گوش کے حوالے سے چند معلومات لکھ رہے ہیں. گوشت پروٹین، چر بی نمکیات اور پانی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس میں پروئی اجز اقدار سے زیا دہ پائے جاتے ہیں۔ چونکہ انسانی بدن کے ارگ در پیش بھی پروٹین سے بنے ہوتے ہیں اور دوران حرکات وسکنات یہ پروٹینی ما د لیل بھی ہوتے رہتے ہیں یوں ہمارے جسم کو پروٹین اجزا کی ضرورت لازمی ہوتی ہے۔ ہماری صحت مندی کا ایک لازمی جز ویروٹینز ہیں جو ہم اپنی خوراک میں شامل گوشت اور دیگر پروٹین غذاؤں سے حاصل کرتے ہیں۔ ماہرین غذا کے مطابق حیوانی پرویز نباتاتی پروٹینز سے بہتر طور پر ہماری جسمانی ضروریات کو پورا کرسکتی ہیں ۔ لیکن فی زمانہ ہل پسندی او ایشان طرز زندگی کی وجہ سے ہی پروٹینی مادے ہمارے بدن میں کئی مہلک اور موذی امراض کا در پی بھی بن رہے ہیں طبی نقط نظر کے مطابق گوشت موجودہ دور کی خطرناک اور مہلک بیماریوں جیسے امراض قلب ، امراض گردہ بیگر مثانه، یورک ایسڈ کولیرد ول، جوڑوں کا درد اور ذہنی و دماغی مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ دا نا کہتے ہیں کہ گوشت انسان کے اند رحیوانی خصوصیات پیدا کرتا ہے۔ زمین کو کند کر کے سوچنے مجھنے کی صلاحیتوں کو ماند کرتا ہے۔ ہوش کی نسبت جوش اور اشتعال انگیزی کو بڑھاوا دیتاہے۔ اس کے علا وہ دانتوں میں گوشت کے لیئے چن کرامراض دندان کے مسائل بھی اکثر دیکھنے میں آتے ہیں ۔ رہی بات گوشت کھانے کی تو قربانی کا گوشت ضرور کھائیں۔ گوشت کھانے میں کوئی قباحت نہیں ہے، جیسا کہ ہم نے اور لکھا کہ گوشت میں پائی جانے والی پروٹین ہمارے جسم کی بنیادی ضرورت ہے مگر اعتدال کا دامن ہرگز نہ چھوڑا جائے ۔ امراض قلب مگر دہ، یورک ایسڈ کولیسٹرول وغیرہ مسائل میں گرفتار افراد اپنے معالج کی ہدایات کے مطابق گوشت استعمال کر سکتے ہیں۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

عمر سے بڑی لگئی ہوں

کوئٹہ سے ثانیہ ہی ہیں کہ میری عمر 31 سال ہے اور میرا پیٹ بہت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے