مرکزی صفحہ / Uncategorized / قوت مدافعت بڑھانےوالی چند غذائیں اور روز مرہ معمولات

قوت مدافعت بڑھانےوالی چند غذائیں اور روز مرہ معمولات

انسان کی تخلیق فطرت پر ہوئی ہے اور اس کی بقاء و قیام کےلیےفطری اصولوں کی پاسداری ہی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔انسانی وجود میں شامل عناصرہوا،پانی،مٹی اور آگ کے مزاج میں توازن اور ہم آہنگی قائم رہنامثالی تن درستی اور صحت مند زندگی کا بہترین اظہار ہے۔مزاج میں توازن قائم رہنے سے انسانی بدن کا دفاعی نظام جسے طبی ماہرین قوت مدافعت کہتے ہیں مضبوط رہتے ہوئے جسم کی امراض کے حملوں سے حفاظت کرتی ہے۔گرمی،سردی،تری اور خشکی میں توازن اور تناسب سے ایک بدن صحت منت و توانا رہتا ہے۔جب کہیں مزاج میں بگاڑ اور اخلاط میں افراط و تفریط پیدا ہوتی ہے توبدن انسانی کا دفاعی نظام کمزور ہوکر بیماریاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔قدیم طبی ماہرین اور طب نبوی سے متعلقہ معالجین جانتے ہیں کہ زیادہ تر امراض مزاج میں سردی اور خشکی بڑھ جانے سے پیدا ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بوڑھے افراد امراض کے نرغے میں جلد آجاتے ہیں۔عام طور پر 40سال کے بعد بدن انسانی میں سردی اور خشکی غالب آنے لگتی ہے۔سردی اور خشکی سے بیماریاں پیدا ہونے کی منطق جدید میڈیکل سائنس کی روسے بھی ثابت ہوچکی ہے۔جدید میڈیکل سائنس یہ مانتی ہے کہ بدن میں مطلوبہ آکسیجن کی رسد کم ہونے یا خلیات کو آکسیجن کی مناسب مقدار مہیا نہ ہونے سے خلیات مرنے لگتے ہیں۔کولیسٹرول،یورک ایسیڈ اور شوگر سمیت تمام مہلک اور خطرناک امراض خون میں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کم ہونے کے نتیجے میں ہی بدن انسانی پر مسلط ہوتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ قوت مدافعت کمزور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہمارے خون میں آکسیجن کی کمی واقع ہونا ہے۔ زیر نظر سطور میں ہم بدن میں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار کی فراہمی اور قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لوازمات پر روشنی ڈالیں گے۔

روز مرہ معمولات:۔

1:_ورزش:_انسانی بدن میں خون کی گردش اور رسد کو متوازن کرنے کا پہترین اور سب سے بڑا قدرتی ہتھیار ورزش ہے۔ورزش کرنے سے بدن انسانی کے خلیات میں تازہ آکسیجن کی فراہمی آسانی کے ساتھ ہوجاتی ہے۔ورزش ہمیشہ سورج کی روشنی اور تازہ آب وہوا میں کرنی چاہیے اور بدن کے پسینے میں شرابور ہونے تک کرنی چاہیے۔

2:.نیند بھی انسانی صحت اور قوت مدافعت کو بحال کرنے کے لیے بنیادی جز ہے۔ایک رات میں کم از کم 7گھنٹے متواتر سونا بہترین صحت کا لازمی خاصہ ہے۔نیند کی کمی بھی بدن انسانی پر امراض مسلط کرنے کا سبب بنتی ہے۔3:.متوازن اور توانائی سے بھرپور غذائوں کا روز مرہ مناسب استعمال بھی صحت مند بدن کے لیے لازمی شرط ہے۔غذا ہمیشہ ہلکی،سادہ،زسد ہضم مگر توانائی سے لبریز استعمال کی جانی چاہیے۔ثقیل،دیر ہضم،بادی،ترش اور مرغن غذائوں سے پرہیز ضروری ہے۔

4:.نظام ہضم یعنی میٹابولزم متحرک اور مضبوط ہونا بھی صحت نند زندگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔قبض اور کمزور نظام ہضم بھی لا تعداد امراض پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔صحت مند زندگی اور مضبوط قوت مدافعت کے لیے قبض کے خبیث مرض کو ہمیشہ قریب نہ آنے دیں۔

5:.صفائی ستھرائی

اسلام صفائی و ستھرائی کا دین ہے۔پنجگانہ نماز اس کی بہترین مثال ہے۔صفائی کو نصف ایمان تک کہا گیا۔پابند صوم و صلاة افراد کے چہروں کی چمک اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ وضو کرنے سے چہرے کے خلیات تازہ آکسیجن کی رسد باقاعدہ رہتی ہے۔موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام اپنے ماننے والوں کو ہمہ وقت پاکیزہ رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔باقاعدہ نہانے سے بدن کے مسام کھلے رہتے ہیں جس سے بدنی خلیات کو تازہ آکسیجن مہیا ہوتی رہتی ہے۔

قوت مدافعت بڑھانے والی غذائیں:۔

کھجور:۔

کھجور با الخصوص عجوہ کھجور بدن انسانی کی قوت مدافعت میں اضافے کے لیے بہترین قدرتی ہتھیار ہے۔طب نبوی کے مطابق باقاعدہ عجوہ کھجور استعمال کرنے والے پر زہر بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔وائرس کے لغوی معنی بھی زہر ہی کے ہیں۔روزانہ 3سے 5یا7عجوہ کھجوریں نہار منہ کھانا بھی ہر قسم کے زہریلے امراض سے قدرتی حفاظت کا سبب ہے۔

شہد:۔

شہد کی شفائی خصوصیات کسی بھی صاحب شعور سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔کلام الٰٰٰہی میں حکیم کائنات نے شہد کی افادیت،غذائیت اور اہمیت کا بڑے واضح انداز تزکرہ کرکے انسانیت کو اس سے روشناس کروادیا ہے۔حکیم اعظم حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر شہد کے فوائد کو ہم۔پر ثابت بھی کیا ہے۔روزانہ صبح و شام۔نہار منہ حسب ضرورت شہد کا استعمال بدن کی قوت مدافعت میں اضافے کا قدرتی ذریعہ ہے۔

3:.کلونجی

کالا دانہ جسے عرف عام میں کلونجی کہاجاتا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس کی دوائی اہمیت اور شفائی افادیت بارے کئی بار مذکور ہے۔کلونجی اپنے مزاج کی مناسبت سے بدن کی خشکی اور سردی کو زائل کر کے قوت مدبرہ بدن کو متحرک کرتی ہے۔قوت مدبرہ بدن کی تحریک ہی قوت مدافعت کی مضبوطی کی دلیل ہے۔نہار منہ 1سے ،3 گرام تک کلونجی حسب گنجائش شہد میں ملا کر کھانے سے بھی بدن انسانی میں بیماریوں کے خلاف دفاعی طاقت مضبوط ہوتی ہے۔

روحانی معمولات:۔

آفات و بلیات سے حفاظت کی صبح و شام کی مسنون دعائیں بعد نماز فجر اور نماز مغرب لازمی پڑھیں۔نماز فجر کے ساتھ سورہ فاتحہ 7بار تلاوت کر کے ہاتھوں پر پھونک مار کر پورے بدن۔پر ہاٹھ مس کریں۔سورت فاتحہ کو کلام شفاء سے تعبیر کیا گیا ہے۔سورہ یٰسین سمیت مقدور قرآن پاک کی تلاوت لازمی کریں۔اللہ کے کلام میں حرف حرف شفاء ہے۔

صدقہ بلا کو ٹالتا ہے:۔

صدقہ اور دعا دو ایسے ہتھیار ہیں موت کے علاوہ ہر مرض،ہر مصیبت اور آفت و بلا سے محفوظ رکھتے ہیں۔امراض اور آفات سے حفاظت کی نیت سے حسب توفیق ہر صبح صدقہ نکالنا بھی ناگہانی آفتوں اور مہلک امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

کرونا سے حفاظت:_احتیاط نہ کہ خوف:_

دنیا بھر میں کرونا کا خوف موت کا فرشتہ بن کر انسانیت کے سروں پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے