مرکزی صفحہ / مضامین / موسمی اور وبائی امراض سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر

موسمی اور وبائی امراض سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر

ماحول موسم اور معمولات انسانی زندگی کو ہمیشہ سے متاثر کرتے آئے ہیں ۔ موسم خواہ کوئی ہو اس کے اپنے تقاضے ہوا کرتے ہیں۔ یوں تو ہرموسم کے اثرات بد سے بچاؤ ضروری ہوتا ہے لیکن برسات کے موسم کی الجھنوں اور خطرات سے بچنا از حد لازمی ہوتا ہے۔ کیونکہ اس موسم میں ذرا سی لا پرواہی ہمیں موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ بارشوں کے ٹھہرے ہوئے پانی کی سڑن، بو او تضن انسانی صحت کے لیے کافی مضر ثابت ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مچھر اور مکھیاں امراض سے آلودہ جراثیم وائرس اور بیکٹیریاز کوانسانوں میں منتقل کرنے کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں ۔ موسم برسات میں موسمی اور وبائی امراض کے حملہ آور ہونے کے خطرات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پانی جو کہ ہرذی روح کی پہلی اور بنیادی ضرورت مانی جاتی ہے اگر اس کے استعمال میں ہے تو جہی برتی جائے تو فوڈ پوائزنگ، اسہال، ہیضہ اور بیچش جیسے موذی اور مہلک امراض حملہ آور ہو کر زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ انتڑیوں میں انفیکشن کی کیفیت پیدا ہو کر سوزشی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔ ہلکی سی غذائی بد احتیاطی سے ہی فوڈپوائزنگ پیچش، اسہال اور ہیضہ جیسے عوارض لاحق ہونے کے امکانات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ موسمی اور وبائی امراض کے پھوٹنے کی ایک بڑی وجہ فضائی آلودگی بھی ہوتی ہے جوخورونوش کی اشیاء کو جراثیم ، وائرس اور بیکٹیریاز سے آلودہ کر دیتی ہے۔ جراثیم وائرس اور بیکٹیریاز کو ایک جگہ سے دوسری جگ منتقل کرنے کا سب سے بڑاذر یعہ مکھیاں ہیں۔ یوں زہریلے جراثیم، وامرس اور بیکٹیریاز غذا کے رستے معدے میں جا کر فوڈ پوائزنگ کا باعث بن جاتے ہیں فوڈپوائزنگ سے ہی ہیضہ پیچش اور اسہال جیسے موذی اور مہلک امراض کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ہیضہ اور اسہال دو ایسے جان لیوا مرض ہیں اگر ان کے علاج معا لجے میں ہلکی سی کوتاہی کا مظاہرہ کیا جائے تو انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اسہال اور قے آنے کی علامات بالخصوص برسات کے موسم میں اس طرح کی کسی بھی علامت کو معمولی ہرگز خیال نہیں کیا جانا چاہیے۔ بلکہ قبل از وقت مرض سے بچاؤ کے اقدامات پرعمل پیرا ہو کر ان کے حملے سے بچنے کی تدابیر کرلینی چاہیں۔ موسم برسات دیگر موسموں کی نسبت زیادہ تکلیف دہ اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس میں عام طور پر معدہ اور انتڑیوں کے امراض وبائی شکل اختیار کر جاتے ہیں ۔ ان امراض کا اگر مناسب اور بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثا بت سکتے ہیں۔ مذکورہ امراض میں سے فوڈپوائزنگ ایک ایسا مرض ہے جو ہلکی سی بے احتیاطی اور لاپرواہی سے ہی حملہ آور ہو کر نہ صرف انسانی صحت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے بلکہ ہیضہ اور اسہال جیسے موذی امراض کے حملے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔ فوڈ پوائزنگ یاغذائی تعفن کوغذا سے پیدا ہونے والی بپماری کہا جا سکتا ہے۔ یہ حفظان صحت کے اصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے ناقص اور آلودہ خوراک کھانے کے نتیجے میں معدےاور انتڑیوں میں خرابی پیدا ہونے سے رونما ہوتی ہے۔ اس بیماری کا سبب بنے والے عام اسباب کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے بیکٹیریاز، وائرس ، جراثیم اور طفیلیے شامل ہوا کرتے ہیں بعض اوقات غذا میں شامل کیمیائی اجزازہریلے ہوکر فوڈ پوائزنگ کا باعث بھی بن جایا کرتے ہیں لیکن ایسا کبھی کبھار بھی ہوا کرتا ہے۔ مرض پیدا کرنے والے ذرائع خوراک کو پکانے یا تیارکرنے کے دوران کسی وقت بھی آلودہ کر سکتے ہیں ۔ ایسا عام طور پر غذا کو نا مناسب طریقے سے پکاتے ہوئے یا غیر محفوظ طر ز پر رکھی گئی حالت میں ہوتا ہے۔ آلودہ اور ناقص غذا کھانے کے بعد فوڈ پوائزنگ کا دار ومدار غذائی تعفن کی شدت قوت مدافعت اور آ پکی عمرو بد نی حالت پر ہوتا ہے۔ جو آومی جس قدر کمزور قوت مدافعت کا حامل ہوتا ہے وہ اس قدر جلد مرض کی لپیٹ میں آجایا کرتا ہے۔

مرض کی علامات :- جس قدرغذامیں زہریلے اجزاء شامل ہوتے ہیں اسی قد رفو ڈ پوائزنگ کا عمل جلد ہوتا ہے۔ عام طور پر اس مرض کی درج ذیل علامات رونما ہو کر مریض کو پریشان کرتی ہیں متلی، قے، پتلے پاخانے ، پیٹ درد مروڑ بھوک کی کمی ، تھکاوٹ اور بخار وغیرہ ۔ یادر ہےضروری نہیں کہ یہ علامات فوڈپوائزنگ کے فورا بعد شروع ہو جائیں بلکہ یہ چند گھنٹوں وقفے سے لیکر 10 دن تک کے دورانیے میں کسی وقت بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ اس موذی مرض کو پیدا کرنے والے خورد بینی اجسام (جراثیم ، بیکٹیریاز ،وائرس طفیلیے) ہوامٹی، پانی انسانی اور حیوانی فضلات میں حتی کہ ہر جگہ اور ہر وقت پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہماری کھائے جانے والی غذا میں بھی غیر محسوس طریقے سے پروان چڑھتے ہیں کیونکہ یہ بے رنگ، بے بو اور ساخت سے پاک ہوتے ہیں ۔ ہم خوراک کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق استعمال کر کے ہی ان خور و بینی انسان دشمن اجسام کے حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر :۔ ماہرین کے مطابق فوڈپوائزنگ اور دیگر وبائی بیماریوں سے بچاؤ اور انتڑیوں کے امراض سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے احتیاط کا دامن سختی سے تھاما جائے ۔ کچن میں مکمل اور بہترین صفائی رکھی جائے تمام استعمال کی چیزیں احتیاط سے صاف کی جائیں ۔ برتنوں کو گرم پانی سے دھو کر مکھیوں سے بچا کر رکھا جائے۔ کوڑے والی ٹوکری کو صاف اور ڈھانپ کر رکھا جائے۔ گوشت و غیرہ فرج میں کچانہ رکھا جائے اسی طرح گوشت پکاتے وقت خصوصی طور پر دھیان رکھا جائے کہ بیکٹیریا وغیر ہ مر جائیں۔ کھائے جانے والی تمام کچی اور پکی غذاؤں کو مکھیوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ سالن وغیر ہ تازہ ہی استعمال کیا جائے۔ رات کی پاسی خوراک میں جراثیم شامل ہوجانے سے نظام انہضام کو بگاڑ دیتی ہے۔ برتنوں کو اچھی طرح سے دھو کر خشک ہونے پر استعمال میں لائیں ۔ پھلوں کو کھانے اور سبزیوں کو پکانےسے پہلے بہتے پانی سے دھولینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ممکنہ حد تک بازاری کھانوں ، ریڑھی بانوں کی چٹخارے دار غذاؤں جیسی سموسے، پکوڑے، چپیں، وہی پڑے، آلو چنے اور فروٹ چاٹ وغیرہ سے دور رہا جائے۔ المختصر یہ کہ سڑک کنارے، چوراہوں اور گردوغبار سے آلودہ غذائیں بھی فوڈپوائزنگ اور گیسٹرو جیسے امراض کی فیکٹریاں ہیں۔ دودھ کی لسی اور دیگر مشروبات کوبھی ترک کر دینا چاہیے۔ صرف چاٹی کی لسی میں نمک ملا کر (ہائی بلڈ پریشر والے افراد اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کریں) یا پھر لیموں کی نمکین شکنجمین کا استعمال بھی موسم برسات میں فوائد کثیر کا حامل ہوتا ہے۔ پیاز کو بطور سلا دسرکے میں تر کر کے یا پیاز پر لیموں کارس نچوڑ کر کھانا بھی فوڈ پوائزنگ سے بچاؤ کاقدرتی ذریعہ ہے۔ یا در ہے پیاز کی ناخوشگوار بو کوزائل کرنے کے لیے پیاز کھانے کے بعد سبز وضیا کے پتے چبانا مفید ہوتا ہے۔ اسی طرح پودینہ، انار دانہ سبز مرچ لہسن اور سبز دھنیے کی چٹنی کو بھی کھانے کا لازمی حصہ بنائیں۔ اگر ہوسکے تو سبز مرچ کو بطور سلاد استعمال میں لائیں یہ ہیضےے، اسہال اور فوڈ پوائزنگ سے محفوظ رہنے کا قدرتی راستہ ہے۔ پانی صاف اور ابال کر پیا جائے۔ پانی فلٹر کیا ہوا استعمال کیا جائے یا پانی کو مفید بنانے اور جراثیم سے پاک کرنے کے لیے تھوڑی سی پھٹکرری اس میں شامل کر لینی چاہیے۔ اسی طرح کلور بین کی مخصوص مقدار بھی پانی کی کثافت کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے اور ٹائلٹ جانے کے بعد ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھوئیں۔ ناخنوں کو صاف اور بالوں کو کھانے سے دور رکھیں۔

گھریلوٹی تراکیب :۔ بدہضمی سے نجات کے لیے پودینہ، انار دانہ اور سونٹھ ہم وزن سفوف بنا کر آدھی چمچی سادہ پانی کے ایک گھونٹ سے دن میں تین بار استعمال کریں۔ بفضل خدا فوری افاقہ ہوگا۔ اگر پیچش اور اسہال کی علامات بھی ظاہر ہونے لگیں تو چاول ابال کر( پچ سمیت) وہی ملا کر کھانا نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح ٹھنڈے پانی سے نہانا بھی اسہال دور کرنے میں معاون بنتا ہے۔ چھلکا اسبغول کی ایک چمچی دہی میں شامل کر کے استعمال کرنے سے بھی پیٹ کے جملہ امراض سے نجات دلاتا ہے۔ وہی اور کیلا با ہم مکس کر کے کھانےسے بھی پیچش اور اسہال کے امراض سے افا قہ ملتا ہے۔


طبی تراکیب ؛۔اگر گھر یلو تراکیب سے بھی اسہال اور پیچش سے افا قہ میسر نہ آئے تو تو درج ذیل طبی تراکیب اپنائیں انشاءاللہ خاطر خواہ افا قہ ہو گا۔ گلنار5 گرام، پوست انار5 گرام مصری 5 گرام کا سفوف بنا کر اسے 2 گرام کی خوراک عرق پودینہ کے ساتھ استعمال کریں۔ فلفل سیاه 5 گرام ، زنجبیل 5 گرام نوشادر ٹھیکری 5 گرام گیرد5 گرام ۔ تمام اجزا کا سفوف بنا کر بڑے افراد2 گرام اور کم عمر 1 گرام پانی سے کھا کر چائے کے دو چار گھونٹ پی لیں۔ اسہال اور پیچش کے عوارض سے نجات مل جائے گی۔ اس کے علاوہ طبی دواساز اداروں کی تیارکردہ بہترین نتائج کی حامل ادویات بازار میں سہولت دستیاب ہیں ۔ بچوں میں ہیضے اور اسہال کی علامات کی صورت میں درج ذیل طریقوں کو اپنائیں :۔ سونف 1 گرام، پودینه 1 گرام، لونگ 1 عد داور چینی 5 گرام کو یا ہم جوش دیکر چھان لیں ۔ ٹھنڈا ہونے پر وقفے وقفے سے حسب عمر پلائیں۔ زہرمہرہ خطائی 1 ملی گرام، طباشیر 1 ملی گرام ، نارجیل دریائی 1 ملی گرام کو عرق کیوڑہ میں حل کر کے شربت انار ملا کر بچے کو پلائیں ۔ دھیان رہے مذکورہ اوزان کی صرف ایک خوراک ہی بنائی جائے ۔ بفضل خدا بچه ہیضےے اور اسہال کے اثرات بد سے محفوظ ہو جائے گا۔ نوٹ : مرض کی علامات برقرار رہنے کی صورت میں کسی مستند معالج سے رجوع کریں۔

غذائی پرہیز:تلی اور بھنی ہوئی غذاؤں سے پرہیز کیا جائے ثقیل، نفاخ، دیر ہضمم اور بادی اشیاء سے بھی دور ہی رہا جائے تو بہتر ہو تا ہے۔ گوشت کڑاہی اور مرغ مسلم وغیرہ جیسی خوراکوں سے احتر از برتا جائے ۔ چاول اور دال چنا کو باسی حالت میں کھانے سے بچا جائے ۔ تربوز اور چاول ایک ساتھ ہرگز استعمال نہ کیے جائیں ۔ تربوز کھانے کے بعد شربت وغیرہ پینے سے بھی گریز کیا جائے ۔ مرض کے وبائی دنوں میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔ پانی صاف اور ابلا ہوا پیا جائے۔ فوڈپوائزنگ ، ہیضہ ، اسہال اور پیچش کے وبائی ایام میں دست آور ادویات کا ہرگز استعمال نہ کیا جائے اگر بہت ضروری ہو تو صرف ملین یعنی پیٹ کو ہلکا نرم کرنے والی ادویات لی جانی چاہیں ۔ رہائشی جگہوں کو صاف ستھرا اور ہوادار رکھا جائے۔ حفط ما تقدم کے طور پر پانی میں پودینہ کے پتے پکا کر یاعرق گلاب ملا کر پانی پیا جائے۔ سبز مرچ سبز پودینہ اور پیاز بطور استعمال لازمی استعمال کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ مندرجہ بالا معروضات پر عمل پیرا ہو کر لا تعداد جسمانی اور ذہنی الجھنوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔




اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

نزلے اور زکام سے مکمل نجات ممکن ہے

زندہ رہنے کے لئے موسمی تغیر وتبدل اور آب و ہوا کی تبدیلی لازمی ہیں۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے