مرکزی صفحہ / Uncategorized / ورزش;بہت سی بیماریوں کا مفت اور نہائیت مفید علاج

ورزش;بہت سی بیماریوں کا مفت اور نہائیت مفید علاج



سیر اور ورزش کے دوران تازہ اور معیاری آکسیجن حاصل کرنا از حد ضروری ہے ۔

وجود اور عدم ، ہونے نہ ہونے کے مابین پایا جانے والا فاصلہ محض ایک سانس کی دوری پر ہے۔

انسانی وجود کی حرکات و سکنات کا دارو مدار چلتی سانس پر ہے اور سانس ہوا کا ایک چند ثانیوں پر مشتمل ایسا دباؤ ہے جو اگر واپس وجود میں نہ آسکے تو زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔جب تک سانس کا پنکھا گھومتا رہتا ہے، سانس وجود سے باہر اور اندر اپنا ردھم برقرار رکھتا ہے تب تک زندگی اپنے ہونے کا ثبوت دیتی رہتی ہے اور جونہی سانس کا یہ سلسلہ تھمتا ہے تو وجود عدم میں ڈھل جاتاہے۔

بدن انسانی کی صحت مندی کے لیے جہاں حوائج ضروریہ ماحول، غذا ، پانی، لباس اور گھر وغیرہ ضروری ہے وہیں سانسوں کے سلسلے کو جاری رہنے کے لیے ہوا جسے میڈیکل اصطلاح میں آکسیجن کہا جاتا ہے بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ ہم اپنی ضرورت کی آکسیجن کھائے جانے والی غذا، پیے جانے والے پانی ، تواتر سے آتی جاتی سانس اور جلدی مسامات سے پوری کرتے ہیں۔
جدید میڈیکل کی رو سے انسانی وجود کی تخلیق خلیہ سے ہوئی ہے اور انسانی بدن لا تعداد خلیات کا مجموعہ ہے۔ خلیات کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر چند ثانیے بھی کسی جاندار کو آکسیجن میسر نہ آسکے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

آکسیجن جس قدر تازہ اور وافر ہوگی اسی قدر ہمارا بدن زیادہ چست وچاک وچوبند ہوگا، بدن میں خون کی روانی عمدہ ہوگی۔ جب تک خلیات، عضلات، اعصاب ، اعضاء اور بافتوں کو خون کی رسد مناسب ملتی رہتی ہے تب تک بدنی نظام بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔

جونہی خون کی رسد میں کمی یا دوران خون میں کمزوری پیدا ہوتی ہے تو بتدریج خلیات، عضلات ، اعصاب ، اعضاء اور بافتیں اپنا کام پوری طرح سرانجام نہیں دے پاتے اور نتیجتاً صحت کو برقرار رکھنے والا خود کار دفاعی نظام کمزوری کا شکار ہوکر بیماریوں کے خلاف اپنی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔

یوں مرحلہ وار بیماریاں حملہ آور ہوکر بدن انسانی کی جوانی، خوبصورتی اور طاقت کا خاتمہ کرنے کے درپے ہوجاتی ہیں جو بالآخر موت کی صورت میں انسانی زندگی کے خاتمے کا اعلان سمجھاجاتا ہے۔

موت مبینہ طور پرسانس رکنے یا ہوا کا انسانی وجود میں داخلہ بند ہوجانے کا نام ہی تو ہے۔یوں اگر عمیق مشاہدہ کیا اوربغور جائزہ لیا جائے تو مبینہ طور پر ایک حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ کہ انسانی وجود کی زندگی کا تمام تر دارو مدار اور انحصار ہوا یا آکسیجن پر ہی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اپنی صحت مندی اور زندگی کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے معیاری، تازہ اور وافرمقدار آکسیجن کے حصول کو روز مرہ ضروریات میں شامل کریں۔ اجزائے خورونوش کے علاوہ صاف ستھرا ماحول، تازہ آب و ہوا اور آلودگی سے پاک فضاء بھی تازہ، معیاری اور وافر مقدار میں آکسیجن کے حصول کا بہترین ذرائع مانے جاتے ہیں۔

فی زمانہ بڑھتے ہوئے امراض کی سب سے بڑی وجہ ملاوٹ سے بھر پور خوراک ،گردو غبار سے اٹاماحول اور آلودگی سے لبریز فضاء کو سمجھا جاتا ہے۔

صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خوراک کو ملاوٹ سے پاک خورونوش اجزاء سے ترتیب دیں۔اپنے گردو نواح میں مقدور بھر صفائی ستھرائی اور آلودگی کے خاتمے کے لیے کوشاں رہیں۔ مصنوعی اور بازاری غذاؤں کے استعمال سے حتی الوسع بچیں اور قدرتی خوراک، صاف ماحول اور سادہ طرز رہن سہن کو اپنانے کی سعی کریں۔ بیماریوں سے بچاؤ اور نجات پانے کا ایک ہی آسان، مفت اور مفید راستہ ہے اور وہ ہے ورزش کرنا۔

اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، جو لوگ آج بھی صبح کی سیر اور چلنے پھرنے کو ترجیح دیتے ہیں وہ دوسروں کی نسبت صحت مند و توانا زندگی گزار تے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں بعض ایسے غلط رواج عام ہوگئے ہیں کہ محنت و مشقت کرنے کے باوجود بھی ہماری کوشش بے کار چلی جاتی ہے۔ بعض لوگ علم کے نام پر جہالت پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کوئی نیا غیر صحت مندانہ شوشہ چھوڑ کر عام آدمی کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی لوگ رات کو ٹریک سوٹ پہنے سڑکوں پر ہانپتے ہوئے عام پائے جاتے ہیں، یہ سب بزعم خود سیر اور ورزش کرتے ہیں جبکہ ان کی یہ سیر اور ورزش ان کے لیے با لکل بھی مفید ثابت نہیں ہوتی ، بلکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی نقصان کا پیش خیمہ ہی بن رہی ہو۔ سیر اور ورزش کے حوالے سے ایک بات طے ہے کہ یہ تازہ اور معیاری آکسیجن کے حصول کا سبب ہیں۔

دھیان رہے کہ آکسیجن فضاء میں دن کے وقت وافر مقدار میں پائی جاتی ہے اور رات کے وقت فضاکاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے لبریز ہوتی ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک مضر صحت گیس ہے جسے جاندار سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔

انسانی صحت کا دارو مدار تازہ آکسیجن کے حصول پر ہے جبکہ رات کو سیر اور ورزش کرنے والوں کو سوائے سڑکوں کی دھول کھانے اور پسینے کے رستے مفید نمکیات بہانے جیسے نقصان کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور ہیومن سائنس بھی زیر غور رہے کہ اللہ کریم نے انسانی وجود کی راحت وسکون کے لیے نیند بنائی ہے اور صحت مند نیند صرف اور صرف رات کو ہی میسر آتی ہے۔ یوں ایسے لوگ آرام کے وقت بدن کو مشقت میں ڈال کر مزید اس پر ظلم کرتے ہیں۔ سیر اور ورزش کے سلسلے میں چند پہلوؤں کو مد نظر رکھا جانا چاہیے۔

سیر اور ورزش ہمیشہ علی الصبح اس وقت کرنی چاہئے جب طلوع سورج کی کرنیں ہر سو اجالا پھیلاتی ہیںکیونکہ اس وقت ماحول قدرے صاف و شفاف اور فضا میں آلودگی کم ہوتی ہے جبکہ آکسیجن کی تازہ اور معیاری مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ سیر اور ورزش کرتے وقت سانس، ناک کے رستے لینی اور منہ کے رستے خارج کرنی چاہیے۔

ناک کے نتھنوں میں قدرتی طور پر خالق نے ایئر فلٹرز نصب کیے ہوئے ہیں جو سانس فلٹر کر کے پھیپھڑوں میں گندے ذرات جانے کو روکتے ہیں۔ صحت مند طرز تو یہی ہے کہ ہمہ وقت سانس کا اخراج منہ کے رستے اور حصول ناک سے ہی کیا جائے۔ سیر اور ورزش ہمیشہ خالی پیٹ کی جانی چاہیے تاکہ معدہ دوران ورزش حصول توانائی کی غرض سے جسمانی زہریلے ذرات کو استعمال کرکے بدن کو مضر آلائشات (کولیسٹرول، یورک ایسڈ،شوگر وغیرہ) سے پاک کردے۔

سیر ہمیشہ تیز قدموں سے کی جائے جس سے بدن پسینے میں شرابور ہوجائے،یقین مانیے یہی’’ سیر‘‘ حصول صحت میں معاون ثابت ہوگی ورنہ عام اور دبے قدموں چلنے سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہوپائیں گے۔ سیر اور ورزش سے فارغ ہونے کے فوری بعد کچھ کھانا پینا ،نہانا،ٹھنڈی ہوا میں آنا بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ دوران سیر یا ورزش اگر پیاس کا شدید احساس ہو تو سادہ پانی کے دو سے تین گھونٹ ٹھہر ٹھہر کر پینا چاہیے۔

جم کلب میں ورزش کریں خواہ تیراکی،فٹ بال کھیلیں یا ہاکی،کرکٹ کی پریکٹس ہو یا بیڈ منٹن ،گھڑ سواری کریں یا سائیکلنگ سب کا مقصد تازہ آکسیجن کا حصول، بدن کی حرکات میں چستی اور صحت مندی ہی ہونا چاہیے۔ دوران سیر یا ورزش اپنی سوچ کو جسمانی صحت مندی پر مرکوز رکھنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ سیر کرتے وقت دھیان رکھیں کہ آپ کی آنکھوں اور چہرے کی ورزش بھی لازمی ہونی چاہیے۔

بھرپور قہقہ لگا کر ہنسنا چہرے کے خلیات و اعصاب میں تازگی لاتا ہے جبکہ آنکھوں کا دائیں ،بائیں، اوپر، نیچے گھمانا، پھرانا آنکھوں کے اعصاب وعضلات کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ ورزش کے حوالے سے نماز پنجگانہ بہترین مواقع مہیا کرتی ہے۔رکوع وسجود سے ریڑھ کی ہڈی کی زبردست ورزش ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں نفلی روزے رکھنے سے بھی اندرونی اعضاء کی ورزش کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

آج کل سیر گاہوں میں سیفٹی ماسک کے بغیر داخل نہیں ہونے دیا جاتا اور سیر کرنے والے اکثر خواتین وحضرات ماسک سے منہ ڈھانپے سیر کر تے عام دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک وضاحت ضروری ہے کہ سیفٹی ماسک کا استعمال لازمی کریں لیکن یاد رہے کہ ماسک پہننے سے آکسیجن کی مطلوبہ مقدار میسر نہیں آ پاتی، یوں سیر کا مقصد پورا نہیں ہو پائے گا۔

یہاں ایک اور وضاحت بھی لازمی ہے کہ عام فرد اور طبی ماہرین سمیت سبھی جانتے ہیں کہ’’ کورونا وائرس‘‘ بدن انسانی میں آکسیجن کی کمی کا سبب بن کر ہی تنگئی تنفس جیسے گھمبیر مسائل پیدا کرتا ہے ۔ یہی آکسیجن کی کمی ذرا سی بے احتیاطی کے باعث موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ ماسک ضرور پہنیں ،رش والی جگہوں پر جاتے وقت اورپبلک مقامات پر ہی لیکن ہر وقت ماسک پہننے کی عادت آپ کے بدن میں آکسیجن کی کمی کا سبب بن کر مزید کسی بدنی مسئلے میں الجھا بھی سکتی ہے۔

متواتر اور ہمہ وقت ماسک کا ا ستعمال کرتے رہنا آکسیجن کی مطلوبہ مقدار میں کمی کا باعث ہی نہ بن جائے۔کورونا وائرس کی دوسری لہر کی متوقع آمد کے پیش نظر احتیاطی تدابیر (سماجی فاصلہ،میل ملاپ میں کمی،گھر پر محدود رہنا اور وقفے وقفے سے ہاتھ دھونا) پر عمل پیرا ہونا ہی بچاؤ ہوسکتا ہے۔سیر یا ورزش کے بعد توانائی سے بھرپور متوازن خوراک لی جانی چاہیے۔

دلیے میں خشک میوہ جات ملا کر کھانا بھی بہترین جسمانی فوائد مہیا کرتا ہے۔ ناشتے میں دہی، مکھن،انڈہ،سفید و سیاہ چنے،بکرے کے پائے اور مربہ جات و حلوہ جات بہترین قدرتی غذائیں ہیں۔یاد رکھیں کہ نہار منہ دودھ پینے، پھل کھانے، اور پھلوں کے رس لینے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ ورنہ آپ کا پیٹ خراب ہو سکتا ہے۔

آپ اگر چاہتے ہیں کہ سدا بہار صحت مند و تن درست وتوانا رہیں تو روزانہ ایک گھنٹہ سیر اور ورزش کرنے کو معمول بنا لیں،چکنائیوں، مٹھائیوں، کولامشروبات، بیکری مصنوعات، نمک، تیز مسالہ جات اور فاسٹ فوڈز سے پرہیز کریں۔ پانی ابلا ہوا اورسادہ پییں اور روزانہ کم از کم 8 گھنٹے نیند تواتر سے پوری کریں۔رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی عادت بنائیں۔ہم وثوق سے کہتے ہیں کہ بیماریاں آپ سے دور رہنے پر مجبور ہوں گی۔
[email protected]

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

روایت اور سائنس کا موازنہ’چند حقائق جان لیجیے

روایت اور سائنس کا موازنہ، چند حقائق جان لیجئے قدیم اور جدید طب میں انسانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے