مرکزی صفحہ / Uncategorized / کرونا سے حفاظت:_احتیاط نہ کہ خوف:_

کرونا سے حفاظت:_احتیاط نہ کہ خوف:_

دنیا بھر میں کرونا کا خوف موت کا فرشتہ بن کر انسانیت کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔قبل ازیں کرونا سے بھی خطرناک وائرسز دنیا پر حملہ آور ہوکر اپنی موت آپ مر چکے ہیں۔اب تک دنیا میں حملہ آور ہونے والے وبائی امراض کے اثرات سے ہونے والی اموات کی شرح کچھ یوں ہے

وائرس کا نام : سارس
بیماری کی علامات : سانس لینے میں دشواری
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 36٪

وائرس کا نام : زیکا
بیماری کی علامات : جوڑوں کا درد اور جلد دار خارش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 20٪

وائرس کا نام : ایبولا
بیماری کی علامات : کمزوری اور بخار
موت کا امکان : 90٪

وائرس کا نام : ماربرگ بخار
بیماری کی علامات : ہاضمہ کی پریشانیوں کے سبب 10 دن بعد موت
انفیکشن کے بعد مرنے کا امکان : 88٪

وائرس کا نام : نپاہ
بیماری کی علامات : ذہنی الجھن کے بعد موت
انفیکشن ہونے کے بعد مرنے کے امکانات : 75٪

وائرس کا نام : کریمین کانگو بخار
بیماری کی علامات : منہ اور ناک سے ٹکراؤ اور خون نکلنا
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 40٪

وائرس کا نام : انفلوئنزا
بیماری کی علامات : جلن اور گلے کی سوزش
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 13٪

وائرس کا نام : کورونا
بیماری کی علامات : سانس کی نالی میں انفیکشن
انفیکشن کے بعد مرنے کے امکانات : 3٪

طبی ماہرین کے نزدیک کرونا وائرس صرف دو سے اڑھائی فیصد مبتلا مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔اس کی لپیٹ میں آنے اور موت کے منہ میں جانے والوں کی اکثریت کمزور قوت مدافعت کی حامل ہوتی ہے۔کرونا سمیت کسی بھی مہلک مرض سے بچائو کے لیے لازم ہے کہ ہم مضبوط اعصاب کے ساتھ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مرض سے نبرد آزما ہوں۔بطور معالج برسوں سے یہ بات مشاہدے میں ہے کہ اس قدر بیماری کا حملہ خطرناک ثابت نہیں ہوتا جس قدر اس مرض کا بھیانک خوف مریض کو ذہنی طور پر موت کے قرب کرتا ہے۔

نفسیاتی لحاظ سے مرض کا خوف اچھے خاصے صحت مند انسان کو بھی بیمار بنادیتا ہے۔بطور مسلمان ہمارا یہ پختہ ایمان ہونا چاہیے کہ موت کا وقت،جگہ اور وجہ متعین ہیں جو کسی حال میں بھی کسی سے ٹل نہیں سکتے۔اگرصرف طبی آلات و ادویات کی مدد سے موت کا راستہ بند کیا جا سکتا تو جدید میڈیکل سائنس کے موجد اور مہزب و متمدن ترقی یافتہ ممالک کے شہریوں کو موت کبھی بھی نہ آتی۔لہٰذا ایمان کامل کے ساتھ کرونا سے بچائو کی تراکیب اور تدابیر پر عمل پیرا رہیں۔

رواں موسم تبدیلی کا سماں ہے سردی سے بہار اور بہار سے گرمی کی طرف گامزن ہے۔اس موسم میں معمول میں بھی نزلہ،زکام،کھانسی اور بخار وغیرہ ہونا عام سی بات ہے۔سب سے پہلے تو ذہن سے کرونا کا خوف نکالیں اور ہر فلو،کھانسی یا بخار کو کرونا ہی نہ سمجھیں۔اس کے بعد سرکاری سطح پر مشتہر کیے جانے بچائو کے طریقوں پر سختی سے عمل پیرا ہو جائیں۔

سینےٹائزر اپنے پاس رکھیں۔کسی بھی مشتبہ جگہ پر جانے اور وہاں سے واپسی ہاتھ صاف کریں۔یہی کام صابن اور پانی سے ہاتھ دھو کر بھی کیا جا سکتا ہے۔کرونا کے متاثرہ فرد کو الگ تھلگ رکھیں۔اس کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ ماسک اور حفاظتی پیرا میٹرز پر عمل پیرا ہوں۔عام حالت میں کھانستے اور چھینکتے وقت ہاتھ سامنے کرنے کی بجائے کہنی یا بازو کریں تاکہ آپ کے ہاتھ صاف رہیں۔گزشتہ دنوں یونیورسیٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کرونا سے بچائو کے لیے وضو کو بہترین ہتھیار قرار دیا تھا۔اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ ادھر ادھر ہاتھ نہ ماریں کیونکہ کرونا کا وائرس بھاری ہوتا ہے اور فضا میں معلق رہنے کی بجا ئے یہ میز کرسی کے بازو اور دوسری جگہوں پر اپنا وجود برقرار رکھتا ہے۔متاثرہ جگہ پر ہاتھ وغیرہ لگنے سے یہ چمٹ کر منہ اور ناک کے رستے متاثر کرتا ہے۔ہمسایہ ممالک میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونےاور ہمارے اپنے ملک میں اکا دکا مریض سامنے آنے سے حکومتوں نےصوبائی و ملکی سطح پر کرونا سے بچائو سے آگہی مہم بھرپور طریقے سے چلا دی ہے۔محکمہ صحت کے SOP,sکو اپنا کر ہم کرونا وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

قوت مدافعت بدن میں اضافے کے لیے متوازن خوراک استعمال کریں لیکن میٹابولزم خراب کرنے والی غذائیں جیسے فاسٹ فوڈز،کولڈ ڈرنکس،مرغن،زیادہ چکنائی والی،بیکری پروڈکٹس،بریانی،سویٹ ڈشز،بادی اور دیر ہضم غذائی اجزا سے دور رہیں۔ریشے دار غذائیں جیسے سبزیاں،موسمی پھل اور پھلوں کے رس وغیرہ خوب استعمال کریں۔روزمرہ ورزش کا اپنا معمول بنائیں۔عام فلو اور زکام میں اینٹی بائیو ٹیکس اور اسٹیرائیرڈز بیسڈ ادویات کے غیر ضروری استعمال سے بھی اجتناب برتیں۔کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک اس کا ڈر اور خوف ہے۔ڈر اور خوف کو اپنے قریب نہ آنے دیں کیونہ انسانی بدن پر مسلط امراض میں 50%سے زیادہ ڈر،خوف اور سر پر سوار کرلینے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔کرونا کے متعلق بھی مبینہ طور پر یہ بات عام کہی جارہی ہے کہ یہ بیالوجیکل وار ہے جو بڑے ملک مسابقت کے جذبے میں اپنے ہم عصروں کو معاشی اور اقتصادی طور پر نقصان پہچانا ہے۔جتنےمنہ اتنی باتیں کے مصداق کچھ بھی ہے آخر کار نقصان تو انسانیت کا ہی ہے۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

کورونا وائرس:بزرگ ہی سب سے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

بڑھاپا بذات خود ایک بہت بڑی بیماری ہے جو انسان کو بے شمار مسائل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے