مرکزی صفحہ / Uncategorized / کسب کمال کن۔۔۔۔!

کسب کمال کن۔۔۔۔!

برناڈ شا نے کہا تھا کہ شہرت اورنا موری کی خواہش معمولی ذہن رکھنے والوں کی ایک کھلی کمزوری ہے جبکہ بڑا ذہن رکھنے والوں کی ایک پوشیدہ کزوری ہے۔ برناڈ شا کے یہ الفاظ من و عن سچائی کا پرتو لیے ہمارے گردوپیش جگمگارہے ہیں کسی نئی درجے میں ہم سب خود کو اپنے ہم جنسوں، ہم عصروں اور ہم چشموں میں مقبول اور معروف بنانے کی کوشش میں سر گرداں رہتے ہیں ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ چاہنا اور چاہے جانا انسانی سرشت میں شامل ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں اور ہم چشموں میں عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جائے ۔ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں کا لو ہامانا جائے ۔ اس کے نام و مقام کی گونج ہر سو سنائی دے۔ ایک حد تک ہمارے اندران احساسات، جذبات اور خواہشات کے پائے جانے میں کوئی قباحت اورحرج نہیں، کیونکہ انسان کے اندر چھے یہی احساسات سے زندگی میں کچھ کر گزرنے پر اکساتے ہیں ۔ اس کے جذبوں اور ولولوں میں تحریک motivation) پیدا کرتے ہیں تحریک لفظوں کی ہو یا جذبوں کی ہمیں زندہ رہنے کی نوید سنائی ہے، حالات کے مشکل داروں سے ٹکرانا سکھاتی ہے ۔ دکھ سکھ غم خوشی ، کامیابی اور ناکامی ہر حال میں جینے کے ڈھنگ بتاتی ہے۔ زندگی میں جب کوئی تحریک نہ رہے تو وہ جمود کا شکار ہو کر یکسانیت کا روپ دھار لیتی ہے، اور یکسانیت موت کا دوسرا نام ہے۔ زندگی مختلف رنگوں ، روشنیوں ، خوشبوئوں اور ذائقوں کے مجموعے کانام ہے۔ اس میں چاشنی اس وقت تک رہتی ہے جب تک ہم اپنی محسوسات ، خواہشات اور جذبات میں اعتدال اورتوازن قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں لیکن جونہی ہم اعتدال و توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتے ہیں تو زندگی افراط وتفریط کا شکار ہو کر خود ہمارے لیے ایک لا ینحل سوال بن جاتی ہے ۔ مسائل و مصاب کے اژدھے منہ کھول کر ہمارے امن و سکون کا منہ چڑانے لگتے ہیں ۔ ہمارے اندر حسد بخض نفرت ،انتقام، کینہ پروری ، ہوس پرستی ، خود غرضی ، مایوسی اور ریا کاری جیسے تبیج و غیر اخلاقی جذبات جنم لینے لگتے ہیں ۔یہ مزموم اور خبیث احساسات انسان کی پا کیزہ روح کوگھن کی طرح کمزور کرنے لگتے ہیں ۔ انسان انسانی اقدار اور اخلاقی روایات کو پس پشت ڈال کر تسلی محسوس کرنے لگتا ہے ۔ دوسروں پر سبقت لے جانے میں ہر جائز و نا جائر حربہ استعمال کرنا اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ خودغرضی اور ہوس پرستی کاناگ پھن پھیلائے انسانی قدروں کو ڈس کر زہر پیلا بنادیتا ہے۔ اسے اپنی ذات اور ذاتی مفادات کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ دفتر ہو یا گھر، محلے داری ہو یا رشتے داری وہ اپنے ساتھیوں کو بچھاڑنے اورنیچا دکھانے کے لیے ہمہ وقت منفی اور غلیظ پروپیگنڈوں میں مصروف رہتا ہے۔ حسد کی آگ لاوا بن کر ہر وقت اس کے دل و دماغ میں ایک بے چینی سی پیدا کیے رہتی ہے بخل او بغض اسے خودغرضی اور انا پرستی کی بھینٹ چڑھا کر انسانیت کے ارفع واعلی مقام سے گرادیتے ہیں ۔ اپنی جھوئی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے دوسروں پر دشنام درازی اور الزام تراشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ حضرت عمر کے ایک فرمان کا مفہوم ہے حسد ایک آگ ہے جو حسد کرنے والے بھی جلاتی ہے اور جس کے لیے حسد کیا جائے اسے بھی نقصان پہنچاتی ہے“ ثابت ہواکہ حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں اپنے سکون و اطمینان کو جھونک دیتا ہے۔ انسان ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق عام طور پر انسانوں میں دو طرح کے احساسات پائے جاتے ہیں ، احساس برتری اور احساس کمتری: ان احساسات میں مبتلا ہونے کے لیے عمر، عبدے یا شعبے کی کوئی قید نہیں ہوتی ۔ احساس کمتری میں مبتلا افراد خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنے کمتر ہونے کا احساس ہی انہیں دوسروں سے حسد بغض اوریخل کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ جبکہ احساس برتری میں گرفتار افراد اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسروں سے اعلی درجے کے انسان ہیں ۔ یوں ان کی یہ سوچ انہیں دوسروں پرفوقیت جمانے پر بھارتی ہے، اورده حقارت نخوت او رخودغرضی جیسے رذیل جذبات سے سرشار ہو کر معاشرے میں بد امنی ، انتشار اور خلفشار کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں دفاتر میں اس طرح کی صورتحال اکثر و بیشتر و دپکھنے ملتی ہے ۔ ایک ہی ادارے اور ایک ہی پروفیشن سے منسلک لوگ با ہم حسداو رقابت کے جذبات میں گرفتا نظر آتے ہیں۔ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کی بجائے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ، ان کے کام کی حوصلہ شکنی کرنا سینئر افرا دا پنا فرض منصبی سمجھتے ہیں محنتی، قابل اور ایماندار لوگوں کوطرح طرح کے حیلوں بہانوں سے تنگ کر نا معمول کی بات ہے۔ بالخصوص ایسے افراد جو خود تو کچھ کرنے یا آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن قابل محنتی اور آگے بڑھنے کا جذبہ اور ولولہ رکھنے والوں سے حسد کرتے ہوئے ان کے خلاف سازشیں کرنے اور ان کی ٹانگیں کھنچنے پرہی سارا زور لگاتے رہتے ہیں بعض افراد اپنی چرب زبانی اورخو شامدی رویوں اور افسران با لاکی مہربانیوں سے بڑا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ اس کے اہل نہیں ہوتے ہیں اپنی نا اہلی اورکم مائیگی کو چھپانے کی خاطر نئے آنے والوں کی ترقی میں حائل ہونے، ان کے راستے کی دیواربننے میں عافیت خیال کرتے ہوئے منفی طر یمل اپنا لیتے ہیں ۔اس موضوع سے متعلق ایک دانشور سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ انسانی صلاحیتیں پانی کی طرح ہوتی ہیں اور پانی اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔ جہاں سنگلاخ چٹا میں حائل ہوں وہاں پانی زیر زمین اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور موقع ملتے ہی چشمے کی شکل میں پھوٹ پڑتا ہے۔ الکل اسی طرح قابل اور باصلاحیت لوگ بھی ہر طرح کے ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے کامیابیوں کا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ ان کے لیے حاسدین، جانشین اور سازشی عناصر کی حرکات سنگ راہ کی بجائے سنگ میل کا کام دیتی ہیں اور وہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیئے کے مصداق گھبرا کر اپنے عزم اور حاصلے کم نہیں کرتے بلکہ انہیں رکاوٹوں سے منتیں او رنی جہتیں میسر آتی ہیں ۔ مقام او ظرف دو الگ الگ پہلوؤں کا نام ہے ۔ مقام و اکثر لوگوں کول جایا کرتا ہے لیکن ظرف بہت ہی کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ کم ظرف لوگ جلد ہی اپنے مقام ومر ہے کوخاک میں ملا لیا کرتے ہیں ۔ اعلی ظرف لوگ مقام کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ دوام کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں ۔ زندگی میں مقام اور دوا م کے حصول کا واحد راس مقصد سے لگن اور کردار کی مضبوطی ہے لگن کے سچے اور وطن کے کے لوگ یہ جان لیتے ہیں کہ

، بات کردار کی ہوتی ہے وگرنہ عارف ۔۔۔۔۔۔۔۔ قبر میں تو سایہ بھی انسان سے بڑا ہوتا ہے ایسے لوگوں کو دیرف مقام ملتا ہے بلکہ دوا بھی نصیب ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آگہی کے دو مرد ہوتے ہیں علم اور علم علم بغیر علم کے ایسے ہی ہے جیسے شنی بغیر چوکے ، گاڑی بغیر ان کے بندوق بغیر گولی کے و قلم بغیر سیاسی

کے۔لہذا جو لوگ اس حقیقت کو پا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان کےاند علم کے ساتھ ساتھ علم بھی سرائیت کرنے لگتا ہے۔ اپنے ہم جنسوں، ہمعصروں اور ہم چشموں کے لیے عجز و انکساری ، عفو و درگزر، ہمدردی، محبت، اخوت ، ایثار و قربانی جیسے ارفع واعلی جذبات کا تھا نھیں مارتا سمندر ہمہ وقت ان کے دلوں میں موجزن رہتا ہے۔ بخش ، حسد، نفرت شل اور خود غرضی جیسے بے خیالات بھی ان کی سوچ سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ۔ ہماری ایک بڑی معاشرتی بھی یہی ہے کہ ہمارے اندر دوسروں کو تسلیم کرنے کی گنجائش اورحوصل نہیں پایا جا تا ہے ۔ معروف دانشو رسید واصف علی واعشت مرحوم کے بقول ” زندگی صرف میں ہی نہیں زندگی وہ بھی ہے زندگی بھی ہے جبکہ ہم میں کے حصار سے باہر جھا کے کا تکلف ہی نہیں کرتے۔ راقم کی رائے کے مطابق زندگی میں سب سے مشکل اور بڑے دو کام ہوتے ہیں ۔ اول اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور ان کا ازالہ کرنا، دوم دوسروں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں دل سے راہنا۔ یہ دونوں او صاف صرف اور صرف اعلی ظرفی اوریمنی طبع کی بدولت ہی میسر آسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایسے افراد جنہیں اپنے خدا او رخداداد صلاحیتوں پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بھی بھی کسی کی صلاحیتوں اور کامیابیوں سے حسد کرتے ہوئے ماخوش اورا شان نہیں ہوتے۔ بلکہ اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ وقت سے پہلے اور نصیب سے زیادہ سی کو ملا ہے اور نہ ہی مل سکتا ہے۔ جو کرتا ہے الہ کرتا ہے اور الہ اچھائی کرتا ہے۔ پر عمل پیرا ہو کر معروف خودشمن زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ خود سے جھوے لوگوں کے لیے بھی باعث اطمینان ثابت ہوتے ہیں ۔ شیخ سعدی نے مقام و دوام کے طالبوں کو اپنے مخصوص انداز میں بہت ہی خوبصورت پیغام دیا ہے کہ کسب کمال کن کہ عزیز کی جہاں می شوی یعنی اگر تم چاہتے ہو کہ زمانی نہیں محبوب بنالے تو کچھ بہت ہی اچھا کر کے دکھاؤ ۔ بقوال څخے ہمیشہ نظریات زندہ رہتے ہیں اور نظریاتی شخصیات کو دوام حاصل ہوتا ہے ۔ ذاتیات پینی خیالات بھی ہوتی اور عارضی ہوتے ہیں اور ذاتیات ہمیشہ کی موت مر جایا کرتی ہیں لہذا اگر تاریخ کے جھروکوں میں ذرا سا جائیں تو ان مٹ اور لازوال لوگوں کی روحیں یہی کہتی ملیں گی

و مرجھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے۔۔۔۔لفظ مر ے میرے ہونے کی گواہی دیں گے


اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

کورونا وائرس:بزرگ ہی سب سے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

بڑھاپا بذات خود ایک بہت بڑی بیماری ہے جو انسان کو بے شمار مسائل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے