مرکزی صفحہ / ہیلتھی لائف سٹائل / کیل،مہاسے اور چھائیوں سے نجات پائیں

کیل،مہاسے اور چھائیوں سے نجات پائیں

چاہے جانا ہم سب کی جبلت میں شامل ہے۔ چاہے جانے کے لئے خوبصورتی اور پر کشش ہونا ضروری ہے۔ خوبصورت ہوتا اگر چہ ہمارے بس کی بات نہیں لیکن خوبصورت نظر آنے کی خواہش ہر انسان میں فطری طور پر پائی جاتی ہے۔ خوبصورتی اوردل کشی کے لئے آج کل لاکھوں جتن کئے جارہے ہیں بالخصوص خواتین میں یہ خوابش وبا کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں خوبصورتی کوخراب کرنے میں کون کونسے عوامل کوعمل دخل ہے اور وہ کون کونسے ذرائع ہیں جن کو اپنا کر ہم تا دیر خوبصورت اور دلکش نظر آ سکتے ہیں ۔ خوبصورتی خون سے ہو تی ہے ۔ جبکہ جوانی نام ہے جوش اور جنون کا۔ جب جوانی آتی ہے تو انسانی چہرے گلاب کی طرح کھل اٹھتے ہیں۔ چال میں مستی در آتی ہے۔ لڑکیوں میں شرم و حیا کی سرخی گالوں کو مزید سرخ کر دیتی ہے۔ جوانی کے آثار میں سے ایک بڑی نمایاں علامت عشق پیچیاں‘‘ کی بیل ہوتی ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے گالوں ، ناک اور پیشانی پر ہلکے ہلکے اور بسا اوقات بڑےدانے نکل آتے ہیں جنہیں کیل مہاسے یا جوانی کے دا نے کہا جا تا ہے۔ اکثر اوقات جوانی کے دانے خود بخود ہی ایک مخصوص مدت کے بعد ختم ہوجاتے ہیں۔

کیل مہاسے کیا ہوتے ہیں؟ عام طور پر اس مرض کو جوانی کے دانے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مرض 13سال سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم بسا اوقات غذائی بد پرہیزی سے 30 ، 25 سال کی عمر تک بھی نکلتے رہتے ہیں۔ در اصل یہ چہرے کی جلد کے مساموں کی سوزش ہے۔ جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں پائی جاتی ہے۔ لڑکیوں میں اس مرض کی ایک وجہ جنسی ہارمونز( androgen) میں خرابی پیدا ہو جانے سے ہوتا ہے۔ اور لڑکیوں میں زنانہ ہارمونز (estrogen) میں نقص واقع ہو جانےسے پیدا ہوتا ہے۔ علا وہ از یں لڑکیوں میں خرابی ایام اپیکور با، بندش حیض وغیر ہ جبکہ لڑکوں میں جریان،احتلام، وغیرہ سے بھی چہرے پر دانے نکل آتے ہیں ۔ متواتر غیر متوازن اور غیر معیاری غذاؤں کا استعمال بھی acne کا باعث بنتا ہے۔ خرابی خون، جلد میں چکنائی کی زیادتی ، دائمی قبض، بواسیر گرم خشک تلی ہوئی اشیاء کے زیادہ استعمال کرنے سے گوشت خاص کر بڑا گوشت، بیگن ، دال مسور، بیکری کی مصنوعات مشروبات، چائے، کافی، قہوہ ، شراب اور سگریٹ نوشی کازیادہ استعمال بھی اس مرض کا سبب بن جاتا ہے۔

جدید تحقیق، جدید تحقیق کے مطابق خواتین میں میک اپ کا بڑھتا ہوا رجحان بھی چہرے کے دانوں، کیل مہاسوں اور چھائیوں کا باعث بن رہا ہے۔ چہرے کی جلد خراب کرنے میں غیر معیاری اور گھٹیا قسم کی خوبصورتی بڑھانے والی کریمیں، لوشنز اور دیگر اسٹیرائیڈز جو خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی کریموں میں استعمال کئے جاتے ہیں بھی چہرے کی جلد اور رنگت کو بگاڑنے میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں ۔ کیل مہاسوں کی ایک بڑی وجہ میک اپ کا بلا جواز اور غیر ضروری استعمال بھی ہے۔

علامات:۔ چہرے پرسرخ سفید رنگت کی پھنسیاں نکل آتی ہیں جو خشخاش کے دانے سے لیکر مٹر کے دانے کے برابر ہوتی ہیں۔ ان پھنسیوں کو دبانے سے پیپ جیسا مواد خارج ہوتا ہے اور اس جگہ پر گڑھا پڑ جاتا ہے۔ آرام آنے کے بعد چہرے پر سیاہ رنگ کا داغ نمودار ہو جاتاہے۔ بسا اوقات ان دانوں پر بھی ملکی خارش بھی ہونے لگتی ہے جس سے جلد اور رگرت دونوں ہی خراب ہو جاتی ہیں ۔ جلد پر باقاعدہ بڑے بڑے داغ نمودار ہو کر نہ صرف نو جوانوں کی دلکشی اور خوبصورتی کو خراب کرتے ہیں بلکہ کئافراد پرنفسیاتی طور پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض نو جوان احساس کمتری میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

علاج: مصفی خون مفرد نباتات کو استعمال کرنے سے زبردست نتائج ملتے ہیں۔ ان مفردات میں گلو، چرائت، منڈی بوٹی، نیم، عناب ، رسونت سر پھو کہ شاھتره گورکھ پان ،صندل سرخ ، آلو بخارا، جل نیم وغیرہ کو مناسب مقدار میں بطور خیساندہ نہار منہ پینا چہرے کے داغ دھبوں سمیت تمام جلدی امراض کے لئے مفید ہوتا ہے۔ عام طور پر مذکورہ اشیاء کو رات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پی لیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بطور علاج درج ذیل ادویات کا استعمال بھی عمدہ نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ صبح و شام نہار منہ ۔۔۔۔۔ صافی یامصفی یامصفین سیرپ (کسی ایک کے 2, 2 عرق شاتره 1 /2 کپ میں ملا کر پئیں۔ مسیح، دوپہر، شام بعد از غذا۔۔۔۔ مصفین (نیب)2, 2ب کہر نوشادری 2, 2 پانی کے ساتھ کھائیں۔ رات کو سوتے وقت۔۔۔ اطریفل شاہترہ یا اطریفل منڈی یا اطریفل زمانی ( کسی ایک کا)1 برق منڈی 1/ 2 کپ کے ساتھ استعمال کریں۔ درج ز میں ادویات میں سے بھی حسب مزاج استعمال کی جاسکتی ہیں عرق چوب چینی مجون چوب چینی ، شر بت عشبه عربي عشبه متون عشبہ شربت عناب، شربت صندل وغیرہ وغیرہ۔ غذائی پرہیز :- غذاؤں کے معاملے میں از حد احتیاط ضروری ہے۔ گرم ، خشک محرک اور تیز مصالحہ دار غذاؤں سے ممکنہ حد تک دور ہی رہیں تو بہتر ہے ورنہ ایک بار دانے صاف ہو کر دوبارہ نمودار ہو جایا کرتے ہیں۔ اسی طرح چاول، بیگن ، گوبھی، دال مسور، دال ماش ، گوشت مچھلی، انڈا، چائے ،کافی مقبوہ ، مرغ کی یخنی سوپ شراب بازاری مشروبات ، بیکری کی مصنوعات وغیرہ سے مکمل پرہیز کیا جانا چاہیے۔ بیرونی استعمال جلد کو جہاں اندرونی طور پر صاف خون اور بہتر غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے وہیں بیرونی طور پر بھی صفائی اور دیگر لوازمات بھی چاہیے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نیم سوپ یا ڈیٹول سوپ سے چہرے کو دھویا جائے چہرے کی جلد کوتیز دھوپ تیز روشنی اور دھوئیں و گردوغبار سے محفوظ رکھا جائے ۔ عرق گلاب میں گلیسرین ملا کر چہرے کی جلد کیزم و ملائم رکھا جائے اور درج ذیل ابٹنوں میں سے کسی ایک کا با قاعدہ استعمال کی جلد کوزم ، ملائم اور خوبصورت رکھے گا۔ 1:- چھ کانستر 50 گرام پر ائی سفید 5 گرام ، براحت 5 گرام ۔ سب اجزا کو باریک نہیں کر سفوف بنا کر رکھیں۔ رات کو 1 گرام کے دودھ میں پیسٹ بنا کر چہرے پر اچھی طرح لگا کرح دھودیں۔ 2 : زعفران 1 گرام ہلدی 5 گرام عرق گلاب 25 لی لی میں حل کر کے چہرے پر روئی سے مساج کریں ۔ چہرے کی جلد اور رشت نرم ملائم اور خوبصورت ہو جائے گی۔

: مغز بادام 10عد و مغز اخروٹ 10 گرام کو پتھر کی سل پیس کر پیسٹ بنالیں ۔ چہرے کے پرانے سے پرانے داغوں ، وجہوں چھائیوں حتی کہ جلی ہوئی جلد کے نشانات کو بھی مٹانے کے لیے بے مثال فارمولا ہے۔ 4 : گوندھا ہوا آتا حسب ضرورت، دی گئی ایک بڑا کچھ اور بھی ہلدی کا پیسٹ ایک چھوٹا کی اہم ملا کر چہرے کی جلد پر مساج کریں ۔ پانچ سے دس منٹ تک مساج کرتے رہیں۔ اس ترکیب کے استعمال سے آپ چہرے کی جھریوں سے محفوظ ہو جائیں گے ۔ چہرے کی رونق تر وتازگی اور جوانی کی چمک دمک ہمیشہ قائم رہے گی۔ 5: ایسے مردحضرات جوشی کرتے ہیں اور چہرے کے دانوں کے ہاتھوں کافی تنگ ہوں انہیں چاہیے کہ وہ شیو کرنے کے بعد اپنے چہرے پر چھلگری ضرور لگائیں۔ صرف یہ کہ دانے نکلنا رک جائیں گے بلکہ چہرے کی جلد ڈھلکنے اور جھریاں پڑنے سے بھی محفوظ ہو جائے گی۔

غذائی انتخاب :۔ اس سلسلے میں موسم کی مناسبت سے سادہ مشروبات جیسے منجمین پی سی ، شربت صندل شربت عناب ، شربت کاسنی، شربت نیلوفر وغیرہ بہترین نشانی کے عمل ہوتے ہیں ۔ (نوٹ مندرج بالمشروبات صرف موسم گرما میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں) گنے کا رس ، کینوکارس ، چکوترے کا رس اور دہی کی پتلی سی بھی مفید ثابت ہوتی ہیں ۔ سبزیوں میں گھیا نجم مولی، گاجر ، پا لک ، توری ، بند گوبھی، دال مونگ وغیر ہ بہتر ہوتے ہیں ۔ کچھلوں میں انار، امرود خربوزہ تربوز ، ناشپاتی، سمی وغیر ہ مفید ہیں ایسے نوجوان جن کے چہروں پر دانے نکلنے کا رجحان پایا جا تا ہوا نہیں چاہیے کہ وہ مقدور بھر گرم مزاج کی حامل غذاؤں سے پرہیز کریں ۔ ان کی صحت مندی بتن درستی اور خوبصورتی کار از اسی غذائی احتیاط میں پوشیدہ ہے۔ لہذا احتیاط علاج سے بہتر ہے کوا پنا کر صحت مند زندگی سے منظوظ ہونے والے بن جائیں ۔ نوٹ :۔۔۔ خواتین کے چہرے کی رنگت خراب کرنے میں سنے سنائے فضول ٹوکوں اور اشتہاری کریموں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ ایک اہم بات ذہن نشین کر لیں کہ ہماری جلد کی خرابی میں ہمارے خون کا اہم کردار ہوتا ہے۔ چہرے پر نمودار ہونے والے کیل مہاسے اور چھائیاں بھی زیادہ تر خون کی خرابی سے ہی ظاہر ہوتی ہیں ۔ لہذا جب تک نظام دوران خون کی اصلاح اور درنگی نہیں کی جائے گی تب تک صاف اور خالص خون کی پیداوارمکن نہیں ہو سکتی اور جلد کی خوبصورتی و بصورتی کا دارومدار خون کی عمدگی پر ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے خوبصورت اور کشش شخصیت کے مالک بن جائیں تو ٹوکے بازی اور بازاری اشتہاری کریموں سے دور رہتے ہوئے فتنوں کی بھیڑ چال‘‘ کی حوصلہ شکنی کریں ۔ کسی ماہر معالج کے مشورے سے دوا،غذااور بیرونی استعال کے لوازمات کا انتخاب کریں۔ اس طرح آپ کئی ایک جسمانی ونفسیاتی الجھنوں سے محفوظ ہو کر صحت مند زندگی کا لطف اٹھانے والے بن جائیں گے۔

گئے۔



اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

دل کو سنبھالیں، بات بگڑنے سے پہلے

ہمارا دل خالق ِ کا ئنات کی قدرت کا ایک ہے دل کے دورہ پڑنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے