مرکزی صفحہ / مضامین / گرمی کا توڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھنڈے ٹھارمشروبات

گرمی کا توڑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھنڈے ٹھارمشروبات

گرمی کا خیال آتے ہی ذہن میں پیاس، پسینہ اور گھبراہٹ کی کیفیت نمایاں ہونے لگتی ہے ۔ کیونکہ گرمی کا موسم ایک لحاظ سے تکلیف دہ بھی ہوتا ہےاس موسم میں سورج آگ برسا کر اپنے آپ کو ہلکان کرتا ہے۔ گرمی کی شدت و حدت جانداروں کے لیے بظا ہرا ذیت کا با عث دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہی حدت زندگی کی علامت ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر جاندار کی سانسوں کی حرارت ختم ہوجائے تو موجود سے وادئی عدم میں چلا جاتاہے۔ زندگی چند ثانیوں میں ہی موت کا روپ دھار لیتی ہے۔ کائنات کے انجن کو رواں دواں رہنے کے لیے حدت کی اشد ضرورت ہے ۔ اسی لیے تو مالک کائنات نے مختلف موسم بنا کر ماحولیاتی تبدیلیوں کا ڈول ڈالا۔ مختصر یہ کہ بہار کے پھولوں کی رنگینی سے لیکر خزاں کی زردی تک موسم گرما کی تپش سے لیکر موسم سرما کی خنکی تک خالق کائنات نے ایک حسن ، توازن اور دلکشی رکھی ہے جونہ صرف مخلوقات کو زندگی سے روشناس کرواتی ہے بلکہ انہیں زندہ رہنے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے ۔ زیر نظر مضمون میں ہم موسم گرما میں رہ کر گرمی کے اثرات بد سے بچاؤ کے لیے مفید مشروبات کے بارے معلومات تحریر کیے دیتے ہیں تا کہ قارئین ان سے بہتر استفادہ کر سکیں۔ مشروب شرب سے بنا ہے اور شرب کا مطلب ہے پینا طبی اصطلاح میں شربت بطور دوا کے استعمال کیا جا تا ہے مشروبات عام طور پر پھلوں پھولوں اور دیگر نابا تات سے بنائے جاتے ہیں، چونکہ تمام پھل، پھول اور نباتا ت موسمی ہوتے ہیں اس لیے اطباء نے ان کے ثمرات سے سارا سال مستفید ہونے کی غرض سے شربت کو رواج دیا ۔ یا در ہے کسی بھی پھل کی موجودگی ہوتے ہوئے اس کا شربت استعمال نہ کیا جائے بلکہ اس پھل کا تازہ رس استعمال کرنا بے حد مفید ہوتا ہے۔ ہم یہاں چند مفید اور عام استعمال ہونے والے مشروبات کے استعمال اور فوائد کا تذکرہ کیے دیتے ہیں ۔ تا کہ آپ ہماری معروضات پرعمل پیرا ہو کر پھلوں ، پھولوں اور نباتات کے طبی فوائد سے مکمل اور بہترین استفادہ کرنے والے بن جائیں ۔ ہمارے ہاں عام طور پر استعمال ہونے والے مشروبات میں شربت صندل شربت انار، شربت انجبار شربت بادام ، شربت انگور شربت بنفشہ، شربت دینار، شربت عناب ، شربت نیلوفر شربت فالسہ اور شربت مصفی وغیرہ شامل ہیں ۔ آیئے دیکھتے ہیں کس شربت میں کونسے اجزاء شامل کیئے جاتے ہیں اور اس کے فوائد کیا ہیں

شربت الا بگی :۔ الائچی ایک خوشبو دار پھل ہے۔ اس کا مزاج گرم و خشک اور ستاره شمس ہے۔ طبیعت میں الطافت پیدا کرتی ہے اور منہ و پسینے کی بد بو کوخوشبو میں بدلتی ہے ۔ دل اور معدے کو طاقت فراہم کرتی ہے ۔ تبخیر سے پیدا ہونے ہونے والے سر درد اور مرگی سے نجات دلاتی ہے متلی، قے ، ایکائی و راسہال کو روکتی ہے۔ شربت الا بھی کوشربت شکنجبین کے ساتھ ملا کر پینے سے عوارض جگر میں افاقہ نصیب ہوتا ہے۔ منہ میں رکھ کر چبانے سے مسوڑھے مضبوط کرتی ہے ۔ ہاضمے کی قوت میں اضافہ کرتی ہے۔ گرمیوں میں شربت الا ئچی کا استعمال پسینے کی بدبو سے نجات دلاناہے ۔ الائچی کوعرق گلاب میں رات بھر ترکر کے صبح ہلکاجوش دے کر بطريق عام شربت تیارکریں۔

شربت صندل: صندل کے درخت کی لکڑی کے برادرہ سے بنایا جاتا ہے ۔ صندل کا مزاج سروخشک ہوتا ہے اور صندل کی نسبت ستاره زحل سے ہے۔ یہ دل و دماغ کو فرحت و تازگی بخشتا ہے اور معدہ و جگر کو طاقت دیتا ہے ۔ خفقان کے مرض کو دفع کرتا ہے اور کمزوری کی وجہ سے ہونے والی تبخیر کو ختم کرتا ہے ۔ یاد داشت اور ذہن کو طاقتور بناتا ہے ۔ صندل خون کو صاف بھی کرتی ہے لہذا گرمی دانوں سے بچانے میں بھی معاون ہے ۔ صندل کاشربت دل کی گھبراہٹ اور جگر معدے کی گرمی کو دور کرتا ہے اور گرمی کی وجہ سے ہونے والے درد سے تسکین دیتا ہے۔ یہ صندل کے برادہ کوعرق گلاب میں بھگو کر بنایا جا تا ہے۔

شربت انار : انار مشہور پھل ہے جو عام استعمال کیا جا تا ہے ۔ یہ جنت کے پھلوں میں سے ہے اور اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے ۔ چونکہ یہ موسمی ہے اور خاص مدت کے بعد ختم ہو جا تا ہے اسی لیے اس کا شربت بنا کر پورا سال اس کے طبی فوائد سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ مزاج کے حوالےسے انارسردتر ہے اور یہ ستارہ قمر سے منسوب ہے ۔ اس میں ہیموگلوبن کی کافی مقدار پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ شفاف خون بہت زیادہ پیدا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے ۔ گرم مزاج والے افراد انارسے خاطر خواہ استفادہ کر سکتے ہیں ۔ جگر تلی اور پتہ کے امراض میں بہترین نتائج کا حامل پھل ہے۔ کمزور افراد کے جسم کوفربہ کرتا ہے۔ خون میں گرمی پیدا ہونے کی وجہ سے ہونے والی خارش کو ختم کرتا ہے۔ گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والی پیاس کوتسکین دیتا ہے۔ گھبراہٹ اور بے چینی کو ختم کرنا ہے ۔ یرقان، استسقاء (پیٹ میں پانی پڑنا) اور پیشاب کی جلن میں بطور دوا امستعمل ہے متلی اور قے کی کیفیات سے نجات دلاتا ہے۔ انار کا شربت رب انا ریا انار دانے سے بنایا جاتا ہے۔

شربت عناب:- عنتاب بیر جیسا شفا بخش پھل ہے۔ اس کا مزاج گرمی سردی تری اور خشکی میں معتدل ہے۔ یہ ستارہ زہرہ سے منسوب ہے ۔ عناب کولیسٹرول کو متوازن کرنے کا قدرتی اور بہترین ذریعہ ہے۔ یہ خون کو صاف کر کے انسانی بدن کوجلدی امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ بلغم صفرا او رسو دا کو پتلا کر کے جسم سے نکالتا ہے۔ یہ پھیپھڑوں کو بلغم سے پاک کرتا ہے۔ کھانسی اور گلے کی خراش سے نجات دلاتا ہے۔ خون کی گرمی کو معتدل کرتا ہے اور صفراوی بخاروں کا خاتمہ کرنا ہے ۔ امراض جگر اور گردہ میں فوائد کا حامل ہے۔ عناب کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح پکا کر بطريق معروف شربت تیار کیا جاتا ہے۔

شربت بنفشہ : ۔ بنشه ا یک پھول دار پودا ہے اور اپنی ادویاتی خصوصیات کی وجہ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مزاج سردتر ہے اور اس کا ستارہ قمر ہے۔ بنفشہ کونزلہ و زکام کے لیے استعمال ہونے والے جوشاندوں میں عام شامل کیا جا تا ہے ۔ گرمی کی زیادتی سے ہونے والے نزلہ، زکام اور بخار کا بہترین علاج ہے۔ دل کی کمزوری میں جو کے ستو کے ساتھ پینے سے گرمی کا فوری ازالہ کرنا ہے۔ پسلیوں کے درد کی پھیپھڑوں کے در و ورم حلق، اور گرمی کے سر درد میں کمال فوائد رکھتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کم کرنیکی بھی صلاحیت رکھتا ہے گل بنفشہ کو رات بھر پانی میں بھگو کرصبح ہلکا سا جوش دے کر شربت تیار کیا جاتا ہے۔

شربت با دام – بادام مشہور میوہ ہے اور چھوٹے بڑے تمام بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔ اس کا مزاج گرم تر ہے اور یہ ستارہ مشتری سے منسوب ہے۔ یہ انسانی جسم کی تمام تر قوتوں کا نگہبان ہے۔ نظر، دماغ اور اعصاب کو کمال توانائی فراہم کرتا ہے۔ خشک کھانسی کا بہترین علاج ہے ۔ مادہ حیات کثرت سے بناتا ہے۔ قطرہ قطرہ پیشاب آنے کے مرض کو رفع کرتا ہے۔ جسم کوخوبصورت اور فربہ بنانا ہے قبض کو رفع کرتا ہے اور دماغ، انتڑیوں اور جسم کی خشکی کو دور کرتا ہے ۔ شربت با دام بنانے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے ۔ باداموں کو رات بھر بھگو کر خوب گھوٹا لگایا جاتا ہے۔ باداموں کی سردائی کا عام طریقے سے شربت بنالیا جاتا ہے۔

شربت فالسہ :۔ فالسہ ایک مشہور مزیدار اور کھٹا میٹھا پھل ہے جو خواتین اور بچوں میں بڑا پسند کیا جا تا ہے ۔ اس کا مزاج سرد خشک او راس کا ستارہ مریخ ہے۔ فالسہ دل، جگر اور معدے کو طاقت دیتا ہے۔ بالخصوص گرم مزاج والے افراد میں یہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ پتے کی خرابی سے پیداہونے والےعوارض پیچش قئے ،اسہال ہچکی اور پیاس کی زیادتی میں بہت ہی فوائد کا حامل پھل ہے۔ پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے اور گرمی کی وجہ سے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو اعتدال پر لانا ہے۔ جسمانی غیر ضروری گرمی کو ختم کرتا ہے۔ صفراوی شوگر کے مریضوں کے لیے خدا کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔ پیاس کو تسکین دیتا ہے اورگھبراہٹ دور کرتا ہے ۔تازه فالسے لےکر اسے پانی میں مل چھان کر بطريق عام شربت تیار کیا جاتا ہے۔

شربت نیلوفر : نیلوفر سردی تری اورگرمی و خشکی میں اعتدال کا حامل اور ستارہ زہرہ سے منسوب ہے۔ یہ نیلگوں رنگ کے خوبصورت پھولوں والہ پورا پانی کے تالابوں میں عام پایا جاتا ہے۔ نیلوفر دل و دماغ کو طاقت دیتا ہے اور گرمی کو سکون ، پیاس کو بجھاتا ہے ۔ خفقان قلب کے مریضوں کےلیے بہترین دوا ہے۔ دماغی خشکی اور گرمی سے ہونے والے سر درد کا کامیاب علاج ہے ۔ غلبہ سودا او صفراسے ہونے والے اسہال او ضعف، امعاء کو دور کرنا ہے ۔نیلوفر کے پھولوں کو رات بھر پانی میں بھگو کر صبح بطريق معروف شربت تیار کریں ۔ 2 سے 4 بچے ٹھنڈے چمچ پانی میں ملا کر دن میں تین بار استعمال کریں۔

شربت انجبار : شربت انجبار ایک درخت کے ریشے سے بنایا جا تا ہے ۔ اس کا مزاج سرد و خشک ہوتا ہے اوراسے ستاره زحل سے نسبت دی جاتی ہے ۔ یہ جسمانی اعضاء سے بہنے والے خون کو روکنے میں بہترین دوا کا کام دیتا ہے ۔ یہ خون بواسیری ہو یا خواتین کی ماہواری کی زیادتی نکسیر چھوٹنا ہو یا سوزا کی زخم ، پھیپھڑوں سے خون آنا ہو یا زخم امعاءسے شربت انجبار بہترین قدرتی علاج ہے۔ صفراو خون کی بڑھتی ہوئی حدت کو اعتدال پر لانا ہے۔ یا در ہے شربت انجبار کا استعمال اپنے معالج کے مشورے کے بغیر ہرگز نہ کریں ۔ یہ شربت بھی دیگر شربتوں کی طرز پر بنایا جانا ہے۔

قارئین دیگر شر بت بھی مذکورہ طریقے سے بنا کر ان کے فوائد سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی طرز پر تیار کیے گئے مشروبات میں زیادہ تر ٹاٹری ڈا لی جاتی ہے جو کہ بعض اوقات فائدہ کم اور نقصان زیادہ کا سبب بن کرورم حلق،کھانسی اور بخار کاباعث بنتی ہے۔ بازار میں دستیاب مشروبات کو گاڑھا کرنے کی غرض سے ان میں مبینہ طور پر کیمیائی اجزاء بھی شامل کر دیے جاتے ہیں جو کہ غیر صحت مندانہ طرز عمل ہوتاہے اور یوں شربت صحت کا ذریعہ بننے کی بجائے بیماری کا پیغام ثابت ہوتا ہے۔ صحت مندانہ ظرزعمل تو یہ ہے کہ آپ اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کے لیے موسمی پھلوں کا رس نکال کرسکوائش کے طریقے پرمشروبات تیار کریں ، تا کہ پھلوں کے رس سے خاطر خواہ فوائد حاصل کیے جا سکیں ۔اسی طرح دھیان رہے سڑ ک کنارے اور چوک چوراہے میں ریڑ ھیاں سجائے ٹھنڈے ٹھار شربت بیچنے والوں سے دور ہی رہیں گے تو آپ کی صحت کے حوالے سے مفید ہو گا ۔ کیونکہ ان میں سے اکثریت شربت بناتے وقت چینی کی جگہ سکرین ڈالتی ہے جو صحت کے لیے کئی ایک مسائل کا باعث بنتی ہے ۔ علاوہ ازیں گرد و غبار، دھواں اور جراثیم کی ایک فوج ان مشروبات میں شامل ہوتی رہتی ہے جو بعدازاں ہیضہ ، اسہال، پیچش اور بدہضمی جیسے عوارض کو ہم پر مسلط کرنے کا سب سے بڑ ذریعہ ثابت ہوتے ہیں ۔ غیر معیاری صفائی و ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے پینے والے برتنوں کا بے دریغ استعمال بذات خود امراض کی فیکٹریاں بن جاتی ہیں ۔ یادرکھیں کھانے پینے کی اشیاء میں بے احتیاطی ہمیں نہ صرف موسمی وبائی امراض میں نزلہ ،زکام اور فلو کے مسائل سے دو چار کرسکتی ہے بلکہ متعدی امراض کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ لہذا ذرا سی احتیاط آپ کو اور آپ سے جڑے لوگوں کو لا تعداد پر یشانیوں سے بچاسکتی ہے۔



اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

نزلے اور زکام سے مکمل نجات ممکن ہے

زندہ رہنے کے لئے موسمی تغیر وتبدل اور آب و ہوا کی تبدیلی لازمی ہیں۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے