مرکزی صفحہ / Uncategorized / یورک ایسڈ کاعلاج غذاسے کیجئیے

یورک ایسڈ کاعلاج غذاسے کیجئیے

مسائل سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ بدن میں یورک ایسڈ کی مقدار خاص حد سے زیادہ نہ ہو۔ تیزابیت، تبخیر،گیس اور قبض جیسے عوارض اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ ہر دوسرا فرد ان کے ہاتھوں تنگ دکھائی دیتا ہے۔

ملاوٹ سے بھرپور اور مصنوعی غذائی اجزاء کے استعمال سے معدے کی قدرتی کارکردگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ سگریٹ و چائے نوشی،بازاری مشروبات و بیکری مصنوعات،مرغن اور چٹخارے دار خوراک اور تیز مسالہ جات و فاسٹ فوڈز کے بے دریغ استعمال نے معدے اور انتڑیوں کے افعال واعمال کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ تیزابیت،تبخیر اور گیس کی ایک بڑی وجہ قبض سمجھی جاتی ہے۔

جب قبض کے سبب انتڑیوں میں فاسد مادوں کا اجتماع ہوتا ہے تو طبیعت میں ناگواری،بے چینی اور اضطرابی کیفیت کا اظہار سامنے آتا ہے۔ معدے میں تیزابی مادے بہت زیادہ جمع ہوجاتے ہیں تو ان کا اخراج گردوں کے رستے بذریعہ بیشاب مشکل ہوجاتا ہے اور یہی تیزابی مادے بعد ازاں جسم کے مختلف جوڑوں میں جمع ہو کر نقرص،گھنٹیا، شائیٹیکا پین، کمر درد،گردے ناکارہ کرنے ،کولیسٹرول کی افزائش، بلڈ پریشر ،امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا باعث بنتے ہیں۔
جسم میں بڑھے ہوئے تیزابی مادوں کو طبی اصطلاح میں یورک ایسڈ کہا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر سرخ گوشت(Red meet) گائے کے گوشت، بکرے کے گوشت،کلیجی، پائے، مغز، نہاری، گردوں، کپوروں میں زیادہ پایا جاتا ہے لیکن جب میٹا بولزم کی کارکردگی درست طور پر کام نہ کر پا رہی ہو تو ٹماٹر،پالک، دالیں، لوبیا اور چنوں وغیرہ کا استعمال بھی یورک ایسڈ کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک صحت مند جسم میں 2.4 سے 6.5 ملی گرام تک یورک ایسڈ کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے۔

جب یورک ایسڈ مطلوبہ مقدار سے بڑھتاہے تو جسم میں مختلف امراض کی علامات رو پزیر ہونے لگتی ہیں۔ ایک صحت مند انسان کے جسم سے اضافی یورک ایسڈ کی مقدار کو گردے پیشاب کے رستے خارج کرتے رہتے ہیں لیکن جب اس کی مقدار زیادہ بڑھ جائے تو گردے بھی اسے خارج کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ یورک ایسڈ کی بڑھی ہوئی مقدار یوریا کی شکل میں گردوں کی کارکردگی کو متاثر کرنے سمیت جسم کے جوڑوں میں کرسٹل بن کر جمع ہونے لگتی ہے جو بعد ازاں جوڑوں کی حرکات و سکنات میں رکاوٹ کا باعث بن کر درد اورسوجن کا سبب بن جاتی ہے۔یورک ایسڈ کے مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بدن میں اس کی مطلوبہ مقدار سے زیادہ جمع نہ ہونے دیا جائے۔ یورک ایسڈ کی غیر ضروری افزائش سے بچنے کے لیے معدے اور انتڑیوں کی کار کردگی کا درست ہونا لازمی ہے۔ معدے میں تیزابیت، تبخیراور گیس کی علامات کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔اس کا بہترین حل یہی ہے کہ کم از کم 8 گھنٹے کے وقفے سے کھانا کھایا جائے۔کھانے کے فوری بعد سونے اور نہانے سے بچا جائے۔کھانا کھاتے ہی مشقت والا کام بھی نہ کیا جائے ۔ سخت محنت والا کام کرنے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی پینے سے بھی پرہیز کیا جائے۔رات کا کھانا کھاتے ہی لیٹنے اور سونے سے بھی احتیاط کرنی چاہیے۔

پانی صرف اتنا ہی پیا جائے جتنی طلب ہو،کھانے کے فوری بعد پانی کم سے کم پیا جائے، کولڈ ڈرنکس اور ٹھنڈے پانی کا استعمال بالکل نہ کیا جائے۔ چائے، کافی اور قہوہ وغیرہ کھانے کے بعد مناسب وقفے سے استعمال کیے جائیں۔ چکنائیوں سے لبریز پکوان ، تیز مسالہ جات اور بھنے ہوئے سالن کا استعمال کرنے سے بھی گریز لازم ہے۔قبض سے بچنے کے لیے ریشے دار غذائی اجزاء جیسے جو اور گندم کا دلیہ، کچی سبزیاں، پھل اور پھلوں کے جوسز وغیرہ بکثرت استعمال کیے جائیں۔معدے اور انتڑیوں کی کارکردگی کو مناسب اور متواتر رکھنے کے لیے نہار منہ تیز قدموں کی سیر ورزش کرنا بھی ضروری ہے۔سیر اورو رزش کو بھی روز مرہ معمولات کا لازمی حصہ بنائیں۔

ایسے افراد جو یورک ایسڈ کی زیادتی میں مبتلا ہوچکے ہوں انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے چائے اور سگریٹ نوشی پر قابو پائیں اور ان کا استعمال کم سے کم کرنے کی کوشش کریں۔گاجر، مسمی اور سیب کا مرکب جوس روزانہ ایک گلاس لازمی پینا شروع کریں۔ ناشتے میں جو کا دلیہ پانی میں بنا ہوااستعمال کیا جائے،دوپہر میں مولی کے شوربے کے ساتھ چپاتی کھائی جائے۔ مولی ،کھیرا، سلاد کے پتے اور پیاز بطور سلاد کھانا بھی مفید ہوتا ہے۔ رات کو ہلکا پھلکا کھانے کے بعد اجوائن کا قہوہ پینا بے حد فوائد پہنچاتا ہے۔سوتے وقت مربہ ہرڈ تین سے چار دانے دھوکر کھائیں اور گٹھلیوں کو دیر تک چوستے رہیں۔ ایسے افراد جنھیں یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث کمر درد کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے،انہیں چاہیے کہ وہ بطورِ علاج نہار منہ معجونِ فلاسفہ کا ایک چھوٹا چمچ صبح و شام کھانا شروع کردیں۔ جن لوگوں کے جوڑوں میں درد کی کیفیت اور سوجن ہوگئی ہو وہ سورنجاں شیریں کا سفوف بنا کر چھوٹے چمچ کا ایک چوتھائی حصہ صبح و شام کھانے کے ایک گھنٹہ بعد نیم گرم پانی کے ساتھ کھایا کریں۔ پانی میں سونف ابال کر پینے کے لیے استعما ل کریں۔

گھریلو طبی تراکیب سے یورک ایسڈ کا خاتمہ

ہمارے گھروں میں عام استعمال ہونے والے اجزاء یورک ایسڈ کا خاتمہ کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ ہر گھر کے کچن میں اجوائن لازمی پائی جاتی ہے۔اجوائن ایک چوتھائی چھوٹاچمچ ایک کپ پانی میں پکا کر بطور قہوہ پینا یورک ایسڈ اور اس سے جڑے عوارض سے فوری نجات دلاتا ہے۔اجوائن کا قہوہ دن میں ایک پینا کافی ہوتا ہے۔ایک پاؤ اجوائن کو لیمن کے پانی میں اچھی طرح بھگو کر خشک کر لیں۔ جب اجوائن خشک ہوجائے تو اس میں آدھ پاؤ کالا نمک اور آدھ پاؤ خوردنی سوڈا (میٹھا سوڈا) ملا کر مرکب بنا لیں۔ دن میں دو بار کھانے کے ایک گھنٹہ بعد نیم گرم پانی کے ساتھ آدھا چھوٹا چمچ کھا لیا جائے۔ تیزابیت، تبخیر، گیس، قبض سمیت یورک ایسڈ کا خاتمہ کرنے کا بہترین آسان اور گھریلو فارمولہ ہے۔

موسم سرما میں اکثر گھروں میں السی کی پنیاں بنانے کا رواج عام ہے۔السی کا عام اور آسان استعمال یہ ہے کہ اسے ہلکا سو بھون کر محفوظ رکھ لیں۔ صبح نہار منہ ایک چمچ السی ایک گلاس نیم گرم پانی میں دو چمچ خالص قدرتی سرکہ ملا کر کھا لیا جائے۔ چند دنوں میں ہی یورک ایسڈ کے عوارض سے نجات مل جائے گی۔ سوہانجنے کے نرم پتوں کو سائے میں خشک کر کے سفوف بنا کر آدھی چمچی نہار منہ نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کے مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

ادرک ہمارے کچن کا تقریباً لازمی حصہ مانی جاتی ہے۔ایک گرام ادرک کو ایک پانی میں اچھی طرح پکا کر اس میں خالص شہد کی آدھی چمچی ملا کر پینا بھی یورک ایسڈ کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سبز چائے ایک گرام اور ادرک ایک گرام کو ایک کپ پانی میں پکا کر بطور چائے پینا بھی بے حدمفید ثابت ہوتا ہے۔سنا مکی کے چند پتے ،چند گلاب کی پتیاں اور ایک گرام ادرک ایک کپ پانی میں پکا کر پینا قبض سمیت یورک ایسڈ کے لیے بہت مفید طبی ترکیب ہے۔ آسگند ایک مشہور نبات ہے،اس کا سفوف بنا کر نہار منہ دودھ کے ساتھ کھانے سے بھی یورک ایسڈ اوراس کے پیدا کردہ مسائل جوڑوں کا درد، کمر درد وغیرہ سے مکمل شفاء نصیب ہوتی ہے۔یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث جوڑوں کی سوجن اور درد میں افاقہ کے لیے سورنجاں شیریں ایک تولہ کو سبز دھنیا کے ساتھ پیس کر پیسٹ بنا لیں۔

متاثرہ جگہوں پر لیپ کرنے سے درد اور سوجن سے فوری افاقہ ہوگا۔گاجر، مسمی، سیب،مولی، کھیرا، بند گوبھی، کریلے وغیرہ کا روز مرہ خوراک میں استعمال لازمی طور پر کیا جانا چاہیے۔قبض سے چھٹکاراپانے کے لیے رات سوتے وقت روغن بادام کے چار چمچ نیم گرم دودھ میں ملا کر پینا معمول بنا لیں۔ دھیان رہے اسپغول کے چھلکے کا زیادہ استعمال پیٹ کے منجملہ امراض کا سبب بنتا ہے،لہٰذا اسپغول کا استعمال کبھی کبھار ہی کیا جا نا چاہیے۔

روز مرہ پرہیز

روز مرہ غذاؤں میں گوشت، چاول، دالیں، لوبیا، مٹر، پالک، بیگن، چائے، سگریٹ وشراب نوشی، کولا مشروبات،بیکری مصنوعات اوربادی و ترش اشیا کے استعمال سے مکمل طور پر پرہیز لازم ہے۔درد دور کرنے والی ادویات کا غیر ضروری استعمال کرنا بھی مناسب نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی مستند معالج کی مشاورت کے بغیر اینٹی بائیوٹیک اوراسٹیرائیڈز ادویات کا استعمال بھی یورک ایسڈ کی افزائش کا سبب بنتا ہے اور گردوں کے لیے مضر صحت ثابت ہوسکتا ہے۔غیر ضروری طور پر پروٹینز (گوشت ، انڈا ، دالیں، لوبیا مٹر، مکئی ) شوقیہ کیلشیم( ملٹی وٹامنز) اور سدا جوان رکھنے والی بازاری دواؤں اور غذاؤں(فوڈ سپلیمنٹس) سے اجتناب بھی یورک ایسڈکی افزائش سے بچاتا ہے۔

ورزش ہمارے جسم میں غیر ضروری جمع ہونے والے زہریلے مادوں کو (Burn) ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔روز مرہ ورزش کو اپنی زندگی میں ایسے ہی شامل کریں جیسے ہم اپنی خوراک اور لباس کا اہتمام کرتے ہیں۔دو کھانوں کے درمیان کم از کم 6 سے 8 گھنٹوں کا وقفہ لازمی کریں تاکہ معد ہ اپنے نظامِ ہضم کو متواتر اور متوازن رکھ سکے۔

موسم کی مناسبت سے خورونوش کا انتخاب کریں۔ سبزیوں اور پھلوں کو اپنی غذا کا لازمی حصہ بنائیں۔ پالک ،ٹماٹر،آڑو،بیگن،اروی، آلو، پھول گوبھی اور دیگر بادی اجزا کے حامل غذائیںاگرچہ یورک ایسڈکی افزائش اور زیادتی کا سبب بنتی ہیں لیکن اپنے معالج کے مشورے سے ان کے استعمال کا طریقہ ،مقدار اور وقت طے کیا جا سکتا ہے۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

قدیم طبی روایات کی اہمیت سے انکار کیوں?

جب تک انسان قدیم خاندانی اور علاقائی روایات پر عمل پیرا رہا ، اس کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے