مرکزی صفحہ / دلچسپ و عجیب / دل کو سنبھالیں، بات بگڑنے سے پہلے

دل کو سنبھالیں، بات بگڑنے سے پہلے

ہمارا دل خالق ِ کا ئنات کی قدرت کا ایک ہے

دل کے دورہ پڑنے کا خوف ہو یا ورمِ جگر کا خدشہ ہر آدمی دکھی دکھائی دیتا ہے۔ انسانی فطرت کی اس کمزوری سے معالجین خوب فائدہ اٹھاتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

حکیموں کا طریقہ علاج تو عام طور پر چند اَن پڑھ اور نیم حکیموں کی نان پروفیشنل حرکات کی وجہ سے اس قدر بدنام کردیا گیا ہے کہ عام پڑھا لکھا شخص تو لفظ ’’حکیم ‘‘ سے ہی بد ظن دکھائی دیتا ہے۔ رہی بات ڈاکٹرز حضرات کی تو ان کی ادویات اور طریقہ علاج اس قدر مہنگے ہیں کہ سفید پوش طبقہ ان کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ دل کے معمولی آپریشن پر بھی لاکھوں کے بل سامنے آتے ہیں یوں ایک عام اور درمیانے درجے کا انسان علاج کی سکت نہ رکھتے ہوئے ہزاروں خواہشیں اور امنگیں اپنے’’بیمار‘‘ دل میں لیے ہی دنیا سے سدھار جا نے پر مجبور ہوتا ہے۔ آج کے اس مضمون میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ ’’دل کی کارستانیوں‘‘ سے بچنے اور’’دل کی خرابیوں‘‘ کو سْدھارنے کی طبی تراکیب، غذائی تدابیر اور روز مرہ کے معمولات تحریر کریں تاکہ عام آدمی اپنی خوراک میں ہی ردو بدل کر کے صحت مند اور توانا زندگی سے لطف اندوز ہو سکے۔

ہمارا دل خالق ِ کا ئنات کی قدرت کا ایک عجیب شاہکار ہے جو بظاہرگوشت کا لوتھڑا ہے مگر انسانی زندگی کے وجود کا لازمی اور پہلا ذریعہ بھی ہے۔ دل کا وزن تقریباََ 10اونس ہو تا ہے، یہ عام طور پر ایک منٹ میں70بار دھڑکتا ہے۔ جب تک اس کی یہ دھڑکن باقی رہتی ہے سانس چلتی رہتی ہے، جونہی یہ دھڑکن رکتی ہے انسانی زندگی کی ڈور کٹ جاتی ہے۔ یہ مخروطی شکل میں دونوں پھیپھڑوں کے درمیان سینے کے بائیں طرف جھکا ہوتا ہے۔اس کے دو حصے اور چار خانے ہوتے ہیں۔ خانوں کے سکڑنے اور پھیلنے سے ہی نظامِ دورانِ خون رواں رہتا ہے۔
پورے جسم میں خون پہنچانے کے اس کام میں وریدیں(جوبدن سے گندا خون دل میں لاتی ہیں)شریانیں (جو صاف خون پورے جسم میں پھیلاتی ہیں)بھی برابر کی حصہ دار ہوتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق انسانی دل50 سالوں میں قریباََ بارہ ہزار ٹن خون پمپ کرتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیںکہ زندگی طویل،صحت مند اور بیماریوں سے محفوظ ہو تو ہمیں اپنے دل کی حفاظت کے اقدامات ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر کرنے چاہیے، عمدہ غذائی انتخاب اور مناسب ورزشوں کے استعمال سے دل کی صحت مندی اور زندگی میں اضافہ ہو تا ہے۔سہل پسندی،آرام طلبی،سگریٹ نوشی،غیر صحت مندانہ عادات تفکرات اور منشیات دل کے لیے زہرِ قاتل کا درجہ رکھتے ہیں۔

امراضِ قلب کی علامات

کوئی بھی مرض اچانک حملہ آور نہیں ہوا کرتا بلکہ مختلف اشاروں اور علامتوں کے ذریعے سے وہ پہلے ہمیں باخبر کرتا ہے۔ درج ذیل علامات میں سے اگر کوئی ایک یا زیادہ ظاہر ہوں تو فوراََ اپنے معالج سے رجوع کریں۔سانس پھولنا،سینے میں درد کا شدت سے احساس ہونا، بازؤں میں درد کا آنا، دل کی دھڑکن کا معمول سے تیز ہونا، سر چکرانا یا بے ہوشی طاری ہونا،سوزش بالخصوص پاؤں پر ورم کا مسلسل رہنا جیسی علامات اگر گاہے بگاہے نمودار ہونے لگیں تو اپنے معالج کے مشورے سے لیبارٹری سے درج ذیل ٹیسٹ کرانے چاہئیں تاکہ بر وقت مرض کو قابو کیا جا سکے۔ ایکس رے،ای سی جی،ایکسر سائز ای سی جی،ایکو سین،سی ٹی سکین وغیرہ لیکن یاد رہے کہ یہ ٹیسٹ آپ کومعالج کی ہدایات کے مطابق ہی کرانے ہوں گے۔ علاوہ ازیں نبض، بلڈ پریشر،سٹیتھو سکوپ اور دل کو بیرون طرف سے محسوس کر کے بھی اس سلسلے میں کافی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، ایک ماہر اور تجربہ کار طبیب یا ڈاکٹر ہی ان علامات کی روشنی میں تشخیص کا اہل ہو تا ہے۔

دل کو لاحق ہونے والی بیماریاں اور اسباب

دل کا دورہ

دل کا دورہ پڑنے کا سب سے بڑا سبب شریانوں کی تنگی اور دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے۔دل کو اپنی سرگرمیاں اور کار کردگی جاری رکھنے کے لیے ایندھن کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے۔دل اپنی یہ غذائی ضرورت آکسیجن اورہماری خوراک سے شریانوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔دل کو خون کی شکل میں غذا فراہم کرنے والی شریانیں ہماری غذائی بد احتیاطی سے فاسد اور چربیلے مادے جم جانے سے تنگ ہوجاتی ہیں۔ شریانوں میں تنگی واقع ہوجانے سے بتدریج رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔

جب دل کو مطلوبہ خون کی مقدار نہیں پہنچتی تو وہ کئی طریقوں سے اس کا اظہار کرتا ہے۔ یوں دل کے جس پٹھے کو خون کی رسد رک جاتی ہے وہ مردہ ہو کر دل کے دورہ پڑ نے کا سبب بن جاتا ہے۔ شریانوں کی تنگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بلڈ پریشر نارمل رہے کیونکہ شریانوں کی تنگی کی سب سے بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر بنتاہے۔ خردنی نمک کی زیادہ مقدار، چکنائیوں کا غیر ضروری استعمال، سگریٹ، چائے اور شراب نوشی،ورزش کا نہ کرنا، گوشت کا زیادہ استعمال، میٹابولزم کی خرابی، افسردگی و غم، ذہنی تناؤ و اعصابی دباؤ، اچانک صدمہ، کولیسٹرول اور ٹرائیگلا ئسرائیڈز کی زیادتی جبکہ کاہل و تن آسان زندگی بھی دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

وجع القلب یا دل کا درد

دل کا دردافعالِ قلب کی احتجاجی کیفیت کا نام ہے۔ جب دل کے پٹھوں کی کمزوری ہو،دل کو اپنی بساط سے زیادہ کام کرنا پڑے یا پھراضافی چربیوں سے شریانیں تنگ ہوچکی ہوں تو انجائنا کی علامات سر اٹھانے لگتی ہیں۔ جب ہم ورزش یا کوئی محنت طلب کام کرتے ہیں تو ایسے میں ہمارے جسم کو معمول سے زیادہ آکسیجن و غذائیت درکار ہوتی ہے۔ طلب میں اضافہ ہونے سے دل کو رسد بھی بڑھانی پڑتی ہے۔یوں دل کو اضافی کارکردگی کرنی پڑتی ہے جو شریانوں کی تنگی، پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے دل کے درد کی شکل میں سامنے آتی ہے۔

دل کا درد چھاتی کی درمیانی ہڈی کے اوپری حصے میں محسوس ہوتا ہے اور چھاتی کے اردگرد پھیل جاتا ہے۔ شدت کی صورت میں یہ گردن، جبڑوں، کندھوں اور بازؤں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔دل کا درد ٹیس کی بجائے شدید دکھن کا احساس لیے ہوتا ہے۔مریض اسے لگاتار کچلنے والا، تکلیف دہ اور سخت کہتا ہے۔ انجائنا میں سردی کا احساس، پسینہ چھوٹنے اور دم کشی کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ دل کے درد کی وجہ سگریٹ نوشی، بد ہضمی،دائمی قبض، شرا ب نوشی،بلند فشار الدم،جوش وغصہ،رنج و الم،مستقل بے خوابی،شوگر،پٹھوں کے اکڑاؤ اور آتشک کے اثراتِ بد بن سکتے ہیں۔

خفقانِ قلب

خون کی مقدار اور دباؤ میں عدم توازن ہونے سے دل کی دھڑکن کی معتدل رفتار میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ طب میں اسے خفقانِ قلب یا دل کی بے قاعدہ دھڑکن کہا جاتا ہے۔دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھنے کے لیے اس کی رفتار میں توازن ہونا لازمی خیال کیا جاتا ہے۔ جب دل کے خانوں میں سست روی کی وجہ سے خون صحیح طرح سے نہیں بھر پاتا اور وہ سکڑ کر خون خارج کرنے لگتے ہیں تو دل کے پھیلاؤ اور سکڑاؤ کی کیفیات میں عدم توازن دل کی دھڑکنوں میں بے تر تیبی پیدا کر کے خفقانِ قلب کا مرض ظاہر کرنے لگتا ہے۔

اس مرض میں دل اس قدر بآوازِ بلند دھڑکتا ہے کو مریض کو خود بھی ہتھوڑا نما آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ اس کے ساتھ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگتا ہے۔گھبراہٹ اور بے چینی کا غلبہ ہو کر مریض پر بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔یہ عارضہ خون کی کمی،شراب،چرس،چائے اور سگریٹ نوشی وغیرہ سے لاحق ہوتا ہے۔ بعض افراد کو ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ کے متواتر رہنے سے بھی خفقانِ قلب کا مرض اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

اختلاج القلب

اس مرض میں دل کی دھڑکن طبعی حالت سے زیادہ ہو کر پھڑکن کا روپ دھار لیتی ہے۔ دل دھڑکنے کی رفتار زیادہ ہوکر دل پھڑ پ…

اپنے بارےمیں [email protected]

Check Also

کیل،مہاسے اور چھائیوں سے نجات پائیں

چاہے جانا ہم سب کی جبلت میں شامل ہے۔ چاہے جانے کے لئے خوبصورتی اور …

4 تبصرے

  1. هذه تجربه شكل التعليقات

    آضف بعض النص هنا للتجربه و بيان شكل النصوص في منطقه التعلبقات

  2. هذه تجربه شكل التعليقات

    آضف بعض النص هنا للتجربه و بيان شكل النصوص في منطقه التعلبقات

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے