مرکزی صفحہ / دلچسپ و عجیب / مفیدگھریلو مشورے / مفید گھریلو طبی مشورے

مفید گھریلو طبی مشورے


وزن کی زیادتی سے نجات چاہتا ہوں۔
لاہور سے کاظم عباس نے لکھا ہے کہ میرا قد 5 فٹ 7ا اور مر 28 سال ہے۔ میری خوراک بھی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ مجھے خام فل میں
بیٹے کی وجہ سے بری عادات نے بھی کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اب مجھے جسمانی کمزوری بھی محسوس ہونے لگی ہے اور عمر سے بھی زیادہ بڑا دکھائی دینے لگا ہوں یہاں تک کہ میری داڑھی کے بال بھی سفید ہونے لگے ہیں ۔ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے ساتھ ساتھ کچھ اس طرح کی رہنمائی فرما دیں کہ میرے بری عادات بھی چھوٹ جائیں اور جسمانی کمزوری بھی ختم ہو جائے ۔ کراچی سے کمال ایوب صدیقی کہتے ہیں کہ میری عمر 44 سال قد 5 فٹ 8 انچ اور وزن 120 کلوگرام ہے۔ جنک فوڈز سمیت ہر طرح کی بد پرہیزی ہو جاتی ہے۔ کمر، پیٹ اور کولہوں پر چربی زیادہ نمایاں ہے۔ چلنا پھرتا نہ ہونے کے برابر ہے اور گھر سے اختر ، فتر سے گھر بائیک پر آنا جانا ہوتا ہے۔ مہربانی فرما کر مفید غذا اور پرہیز تجویز کر دیں۔
مشورہ:۔
سب سے پہلے یہ جانا ضروری ہے کہ 6 فٹ تک قد والے افراد کازیادہ سے زیا دہ وزن 70 سے 72 کلوگرام تک صحت مندی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شادی ہو جانے اور بڑھتی عمر کے ساتھ یہ وزن 74 سے 76 کلو گرام تک بھی مناسب سمجھا جاتا ہے۔ موٹاپے سمیت تمام امراض کا سب سے بڑا سبب میٹابولزم میں خرابی پیدا ہوتا نتا ہے۔ میٹابولزم ہی وہ واحد فنکشن ہے جس کی درنگی سے پر ابدن تن در ست اور توانا رہتا ہے۔ میٹابولزم میں خرابی پیدا ہونے یا اس کے فعل میں سستی واقع ہونے کا ایک سبب خوراک میں چکنائیوں کا زیادہ استعمال اور تن آسان رہنا بھی ہوتا ہے۔ ایسے افراد جن کا زیادہ وقت دفتروں میں بیٹھے یا گھروں میں لیٹے گزرتا ہے اور ان کی کوئی قابل ذکر جسمانی سرگرمیاں بھی نہیں ہوتیں۔ ایسے خواتین و حضرات جویح کی سیر یا ورزش وغیرہ بھی نہیں کرتے انہیں موٹاپے سے جڑے مسائل کا سامنا کرنا معمول کی بات ہے۔ جسم کی بڑھی ہوئی چربی کوکم کرنے کے لیے سب سے پہلے ورزش کو روز مرہ معمول کا حصہ بنانا لازمی ہے۔ کم از کم ایک گھنٹہ سورج کی روشنی میں تیز قدموں کے ساتھ جانا اور ورزش کرنا بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔ خوراک میں چکنائیاں مٹھائیاں میدے
سے بنی اشیاء بازاری مشروبات ، بیکری مصنوعات، چاول، آئس کریم ، پولیس کاربو ہائیڈر میں والی غذاؤں کو فوری ترک کر دینا چاہے۔ چربیاں ختم کرنے کے لیے بدن میں پروٹین کی مقدار بڑھانا مفید ہوا کرتا ہے۔ اگر کولیسٹرول یا یورک ایسڈ سے جڑے عوارض نہ ہوں تو دیسی مرغ کا گوشت ابال کر کھانا بہت زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے۔ گوشت ابالتے وقت اس میں لہسن، پیاز ، کالی مرچ، زیرہ سفید ، دار چینی ، ہلدی اور ادرک کی مناسب مقدار شامل کر لینی چاہیے۔ بکرے کا گوشت اور شور بے والی مچھلی کا استعمال بھی موٹاپا کم کرنے میں شاندار فوائد کے حامل ہیں ۔ روزمرہ خوراک میں ابلا ہوا انڈہ ، براؤن پریڈ سبز چائے ، ابلی ہوئی سبزیاں ، سفید و سیاہ چنے سرخ لوبیا، پرندوں کا گوشت موی چل اور پھلوں کے جوسز، پی سبزیاں بطور سلا و مولی شلجم امور کا شور بے والا سالن، چھلکے والی دال مونگ اور چپاتی وغیرہ
بہترین غذائیں ہیں۔ یادرکھیں جب مین اور متحرک ہو کرعمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے لگے گاتو کئی ایک بد فی مسائل سے چھٹکارا مل جائے گا تاہم علاج طلب امراض سے نجات حاصل کرنے کے لیے کی بھی ماہر مجھدار اور کا ایفا ند معانی سے معائن کروا کر دو اور غذا تجویز
کروائیں۔ حیان رہے غذا سے علاج کرتے وقت جلد بازی کا مظاہرہ ہرگز نہ کیا جائے، مناسب ، متوازن اور مزاج کے موافق غذائیں استعمال کرنے کے کم از کم ایک ماہ بعد ثبت نتائج ملنا شروع ہوتے ہیں مکمل صحت یابی کے لیے تین سے چھ مہینے تک نذائی پرہیز اور خوراک ا کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔
معدے کی تبخیر و تیزابیت کا مسئلہ ہے
کوئٹہ سے فاروق احمد لکھتے ہیں کہ میری عمر 42 سال ہے اور مجھے معدے کی تیزابیت کا سامنا ہے۔ میرے زبان پر ہمیشہ سفید رنگت کی تہہ جمی رہتی ہے۔ میری آنکھوں اور معدے میں جلن کا شدید احساس ہوتا ہے یہاں تک کہ بول براز کرتے وقت بھی چبھن سی ہوتی ہے۔ دودھ پینے ، پھل اور کچی سبزیاں کھانے سے معدے میں تبخیر پیدا ہونے لگتی ہے۔ براہ کرم میری علامات کو دیکھتے ہوئے مجھے غذاوپر ہیز میں رہنمائی فرما دیں۔
مشورہ:
تیزابیت اور تبخیر دوالگ الگ معدے کے عوارض ہیں اور ان کے پیدا ہونے کے اسباب اور غذائی عادات مختلف ہوا کرتی ہیں۔ تاہم بعض افراد میں غیر فطری طرز خورو نوش کے باعث مزاج کا بگاڑ پیدا ہوکر تیزابیت اور تبخیر کی ایک ساتھ علامات کا پیدا ہو جانا ممکن ہوتا ہے۔ تیزابیت معدے میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تیز مسالہ جات تلی بھنی، فاسٹ فوڈز ، گوشت، بریانی اور گرم وخشک مزاج والی غذائی بکثرت اور تواتر سے استعمال کی جائیں اور ریشے دار غذائی اجزاء کی مقدار بہت کم خوراک میں شامل کی جائے ۔ تیزابیت کی علامات میں معدے اور غذا کی نالی میں جلن، آنکھوں کی سرخی ، ہاتھ پاؤں کے تلووں میں سڑن بعض اوقات شدید بھوک و پیاس کا لگنا وغیرہ شامل ہیں ۔ تبخیر پیدا ہونے کے اسباب میں مزاج سردی اور تری کے بڑھ جانے کے ساتھ ساتھ تیل اور غلیظ غذائی اجزا جیسے، آلو اور آلو کے چیں، گوبھی ،اروی بھنڈ ی ، دال ماش ، میدے سے بنی اشیاء، کولڈ ڈرنکس کا زیا دہ استعال، یخ ٹھنڈا پانی پینے ، کھانے کے فوری بعد لیٹنے سونے ، نہانے، سخت کام کرنے اور نہاتے ہی پیٹ بھر کر کھانے یا ٹھنڈے ٹھارمشروب پینے کی عادت سے معدے میں تبخیر کی علامات پیدا ہو جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلسل اسبغول کا چھلکا کھانے والے خواتین و حضرات بھی کچھ عرصے کے بعد تبخیر
کے عارضے میں پھنس جاتے ہیں۔ اسبغول میں شامل سردی اور تری معدے کے مزاج میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے۔ چھلکا اسبغول استعمال کرتے وقت دھیان رکھا جائے کہ ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہ کھایا جائے۔ اسبغول کو ٹھنڈے پانی میں تو بالکل بھی نہیں کھانا چاہیے انتہائی ضروری حالت میں سوتے وقت نیم گرم دودھ میں دو روغن بادام ملا کر اسبغول کی ایک چمچی شامل کر کے استعال کی جاسکتی ہے۔ جن افراد کی انتڑیوں میں فاضل رطو بات جمع ہو نے کار جحان اور دائمی قبض کا مرض ہوان کو بھی تبخیر کی علامات سے پالا پڑ سکتا ہے۔ تبخیر سے بچنے کے لیے سب سے پہلے انتڑیوں کو فاضل رطو بات سے صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سنامکئی دوحصے ، گلاب کی پتیاں ایک حصہ اور سونف ہم وزن سفوف بنا کر کوئی بھی رات کو نیم گرم پانی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ ہفتے عشرے کے بعد پیٹ کی غلاظتیں صاف ہو کر انتڑیوں کی کارکردگی بحال ہونے لگے گی۔ تیزابیت سے نجات پانے کے لیے ادرک کا قہوہ دن میں دو بار پینا بہترین علاج ہے۔ خوراک میں ہلکی ، سادہ اور کم سے کم غذا کھانا ہی مفید ہوتا ہے۔ گندم اور جو کادلیه ‘گندم کادلیہ ، دال مونگ ، مولی کالے چنے اور شور به اور چپاتی وغیرہ بہترین غذائیں ہیں ۔ جب بیماری کی علامات ختم ہو جا ئیں تو خوراک میں تمام غذائی اجزاء کی مناسب مقدار شامل کی جاسکتی ہے۔
گلہ خراب رہتا ہے
بٹگرام سے شہرم خان کہتے ہیں کہ میری عمر 32 سال ہے اور مجھے اکثر گلا خراب ہونے کی تکلیف کا سامنا رہتا ہے۔ گلے میں بلغم گرتے رہنے
سے چھاتی بھی بھاری اور اکثر کھانسی آتی رہتی ہے۔ براہ کرم کوئی ایسی گھر یلوتر کیب بتادیں جس کے استعال سے میر اگلا ٹھیک ہو جائے اور ریشہ گلے میں گرتا بھی رک جائے۔ نیز مفید غذائیں اور پرہیز بھی بتادیں تا کہ یہ مسئلہ دوبارہ پیش نہ آ سکے۔ مشورہ:۔
گلے میں ریشہ گرنے اور بلغم کرتے رہنے کی سب سے بڑی وجہ دائمی نزلہ سمجھی جاتی ہے۔ دائمی نزلے سے نجات حاصل کر کے ہی آپ
گلے کی خرابی سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ بلغم پیدا کرنے والے غذائی اجزاء جیسے سادہ دودھ، دبی ، ترشی، چاول، آلو، گوبھی،
ار وی بھنڈی ، دال ماش ، بھنی اور بادی اشیاء سے فوری پر ہیز شروع کر دیں۔ جس قدر ہو سکے مولی اور شلجم پتوں سمیت پکا کر کھایا کریں۔ مکمل صحت بحال ہونے تک کچی سبزیاں، کیلا ،
امر و دوغیرہ کھانے سے اجتناب کریں۔ پانی کی جب بھی طلب ہو
ا بلا ہو ا ہلکا نیم گرم ہی استعمال کریں۔ نہار منہ تیز قدموں کی سیر کے بعد پسینہ آور ورزشیں کرنا آپ کے لیے بے حد مفید ثابت ہوں گی ۔ جسم سے فاضل رطوبات کے اخراج کے لیے اسطوخودوس آدھا گرام ایک کپ پانی میں پکا کر بطور جوشاندہ دن میں دو بار پیا کریں۔ گلے کی خرابی اور کھانسی سے نجات پانے کے لیے عناب
3 عد د لسوڑیاں 7 دانے اور
ہہی دانہ کے 5 دانے ایک کپ میں اتنا پکائیں کہ پانی آدھارہ جائے۔ جوشاندے میں خالص شہد کی آدھی چمچی ملا کر دن میں تین بار استعمال کریں۔ میٹابولزم کو تحریک دینے اور اس کی کارکردگی بڑھانے کے لیے ہر کھانے کے بعد حب کبد نوشادری کی دو دو گولیاں چبا کر پانی سے کھایا کریں۔ بفضل خدا دو تین ہفتوں میں ہی گلے کی خرابی سمیت ریشہ و غیره گرنا بند ہو کر آپ کی طبیعت بحال ہو جائے گی۔
بیٹی بہت کمزور ہے۔
فیصل آباد سے کاشف نور نے لکھا ہے کہ میری تین سالہ بیٹی بہت زیا دہ کمزوری کا شکار ہے۔ بہت سے ڈاکٹرز اورحکیموں سے علاج کروائے، کچھ عرصہ ٹھیک رہتی ہے پھر بیمار ہو جاتی ہے۔ دواؤں کا مستقل فائدہ نہیں ہوتا ۔ بیٹی کی بیماری سے بہت پریشان ہوں مہر بانی فرماکر کوئی موثر دوا اور مفید غذا تجویز کر دیں جس سے میری بیٹی صحت یاب ہوجائے۔
مشورہ:
محترم ! آپ کی بیٹی کا میٹابولزم سست روی کا شکار ہے اس کی مکمل صحت مندی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا میٹابولزم محرک کیا جائے۔ اس حوالے سے بچوں کی نشوونما میں مستعمل مارکیٹ میں دستیاب ہے بی ٹا نک میں سے کسی ایک کا متواتر استعمال کروایا جائے۔
بیٹی کو بازاری غذائی اجزاء چپس’ ،سلانٹیز پاپڑ ز گولی ٹافیاں، مصنوعی فلیورز سے بنی مصنوعات اور غیر فطری اشیاء کے قریب بھی نہ جانے دیں ۔ بطور علا ج بائیو کیمک دوا ہرا لین دن میں تین سے چار بار مجوز ہ خوراک دینا شروع کریں۔ ابلے ہوئے آلو، کیلا گندم کا دلیہ، ابلے ہوئے چاول، آگ میں بھنی ہوئی شکرقندی ، گائے یا بکری کا خالص ابلا ہوا دودھ، پھلوں کے جوسز عمر کے تناسب سے اس کی روز مرہ خوراک میں لازمی شامل کریں۔ متوازن اور متناسب خوراک کے ساتھ ساتھ دن میں ایک بار دیسی گھی سے پورے بدن پر ہلکی مالش کر کے کچھ دیر کے لیے بیٹی کو دھوپ میں بٹھایا کریں۔ دھیان رہے بچی کو دھوپ میں بیٹھا تے وقت ٹھنڈی ہوا سے بچایا جانا ضروری ہے۔ جسمانی نشوونما اور ہڈیوں کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ دیسی گھی کی مالش وٹامن ڈی اور کیلشیم کے حصول کا قدرتی ذر یعہ بھی ہے۔ ایک اہم بات یہ کہ بچوں کا علاج کرواتے وقت کسی ماہر طبیب یا ڈاکٹرز کی تجویز کردہ دوا اور غذا ہی دی جائے گلی محلوں میں بیٹھے نام نہاد جعلی معالجین (اتائیوں سے قطعی طور دور رہا جائے۔ دعا ہے رب کریم آپ کی بیٹی کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

کورونا وائرس سے نجات دینے والی غذائیں اور معمولات

جب سے حضرت انسان نے خوب سے خوب تر کی تلاش میں ارتقائی مراحل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے