مرکزی صفحہ / Uncategorized / پامسٹری اور انسانی زندگی

پامسٹری اور انسانی زندگی

انسان کو دیگر تلوقات پر حاصل فوقیت اور برتری جہاں علم وزبان عقل وشعور ، دانش ودانائی اور ہم وفراست کی صلاحیتیں ہیں وہیں یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ انسانی دماغ جونصو بے سوچتاور بناتا ہے انہیں عملی جامہ اپنے ہاتھوں سے پہناتا ہے۔ انسانی خوابوں میں تعمیر کا رنگ اس کے ہاتھ بھرتے ہیں۔ آج کی تمام تر جد ید ترقیوں کا سہرا انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو جاتا ہے۔ یوں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کی تمام تر خوبصورتیوں کا واحد ذر یہ انسانی ہاتھ ہے۔ اگر ہاتھ انسانی دماغی منصوبوں کو ملی جامہ پہنانے میں اپنا کردارادا نہ کرتے تو آج جد یدار تقاتو کھا بلکہ دنیا پتھر کے دور سے باہر نکل سکی ہوتی ۔

آیئے ہم اپنے ہاتھوں میں بھی ان خوبیوں کے متعلق جانے کی کوشش کریں جن کو جان کر ہم اپنی دماغی و ذہنی صلاحیتوں ، مادی مواقعوں اور دیگر سہولیات کا بہتر سے بہتر استعمال کرنے والے بن جائیں ۔ ہاتھ اور ہاتھ کی لکیروں سے متعلق علم و دست شناسی (palmistry) کہا جاتا ہے۔ دست شناسی ایک قدیم اور سائنسی علم ہے۔ جو صدیوں سے اپنی افادیت اور حقانیت کی بنیاد پر لوگوں میں مقبول چلا آرہا ہے۔ انسانی ہاتھ پر پائے جانے والی لکیر یں ، علامات اور بھار اس کے فطری رجحانات بھی میلا مات ، جذبات، تعلقات، امکانات، حادثات ، واقعات، کر دار شخصیت، عادات ، دولت، صحت ، محبت، نفرت شہرت کو بیان کرتے ہیں۔ پامسٹری میں انسانی ہاتھ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بعض اعتراض کرنے والے یہ کہتے ہیں تھکتے کہ ہاتھ کی لکیری کی تھیلی کھولنے اور بند کرنے سے وجود میں آتی ہیں جو حقیقت کے سراسر منافی ہے۔ کیونکہ انسان اور دیگر حیوانوں میں سب سے بڑا اور واضح فرق ہاتھ ہی ہیں اس لئے کہ انسان بھی حیوان ناطق ہے۔ ماہرین کے مطابق تمام جانداروں میں محبت نفرت، درگزر ، انتقام اور اپنے اچھے برے کی تمیز کرنے کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں لیکن وہ اپنے منصوبوں کو ہاتھ نہ ہونے کی وجہسے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا ہے۔

جبکہ انسان مشاہداتی ویلا قی صلاحیتوں کوملی جامہ ہاتھوں کی مدد سے پرہاتا ہے۔ لہذا ہم انسانی ارتقاء اور عروج کا سب اگر ہاتھ کو ہیں تو ہرگز بے جانہ ہوگا۔ اگر کائنات کی وسعت اور ارتقائی مراحل پر غور کیا جائے تو حقیقت ہم پر روز روشن کی

طرح عیاں ہو جائے گی کہ فضاؤں کو چیرتے ہوائی جہاز ، سمندروں کے سینوں پر دندناتے بحری جہاز اور سورج کی شعاؤں پر قابو پانے والے انسانی ہاتھ ہی تو ہیں۔ چاند ومرت کے چہروں پر اپنی کامیابیوں کی مہر ثبت کرنے کا سہرا بھی انسانی ہاتھ کے سر جاتا ہے۔ ہم یہ کہنے میں

ذرا بھر بھی شامل نہیں کرتے کہ انسانیت کی تمام تر کامیابیوں کا انحصار ہاتھ پر ہے۔ علاوہ ان میں جدید دور کی ٹیکنالوجی موبائل، انٹر نیٹ اور سیٹلائیٹ وغیرہ کی ایجا بھی انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ ہاتھ کے مرہون منت ہے۔ ہاتھ کا مشاہدہ کرتے وقت ما بر دست شناس ہاتھ کو حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ پہلے حصے میں ہاتھ کی بناوٹ تم اوراس کی ساخت ہوتیہے۔

انگلیوں کی اشکال واقسام بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ جبکہ دوسرے حصے میں تھی اور اس پر واقع علامات نشانات اور بیماروں کے تحت پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ ماہر ین دست شناسی کے مطابق پامسٹری کے مندرجہ ذیل دو حصے ہیں ۔ دست شناسی، کف شناسی دوست بھی ہاتھ اور کف کے معنی تھیلی کے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر پامسٹری کو صرف دست شناسی کہاجاتا ہے۔ علمی رو سے دست شناسی میں صرف ہاتھ کی بناوٹ تم اور انگلیوں کی اقسام و اشکال شامل ہیں ۔ جبکہ افت شناسی میں تھیلی تھیلی میں واقع لکیر یں، ابھار اور دیگر علامات ونشانات شامل ہوتے ہیں۔ ایک سوال اکثر وبیشتر کیا جاتا ہے کہ ہاتھ کونسا دیکھا جائے ؟ ماہرین نے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ دایاں ہاتھ کسی بھی فرد کی ذاتی محنت و کوشش، آزادی خواہشات کی تکمیل می رجحانات فطری میلانات اور پ یسوں کا حامل ہوتا ہے ۔ جبکہ بایاں ہاتھ خاندان، خاندانی عادات، وراثتی امور اور دوسروں کے زیر اثر رہنے کا مظہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردکا دایاں ہاتھ جبکہ عورت کا بایاں ہاتھ دیکھا جاتا ہے۔

ہاں البتہ ایسی خواتین جو مردوں کے شانہ بشانه آزادی و خود مختاری سے کام کر نے والی ہوتی ہیں ان کا بھی دایاں ہاتھ ہی دیکھا جانا چاہئے کیونکہ وہ معاملات زیست کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتی ہیں ۔ یادر ہے گھریلو خواتین کا بایاں ہاتھ دیکھ کر ہی مشاہدہ بنا یا جانا چاہئے کیونکہ وہ اپنے شوہروں کے زیر اثر رہ کر زندگی گزارتی ہیں۔ انسانی ہاتھ پر پائی جانے والی اہم لکیروں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ خط زندگی ، زندگی کی لکیر زندگی کے حالات و واقعات پیش آنے والے حادثات و امکانات اور عمر کے مختلف حصوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی نمازی کرتی ہے۔

زندگی طوالت صحت اور قوت کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس کی طوالت مضبوطی اور چیک طویل العمری اور صحت مندی کو بیان کرتی ہے۔ زندگی کی لکیر سے نمودار ہونے والی شاخیں حائل کے پروفیشن طرز رہن سہن اور بودوباش میں تبدیلی کا پتہ دیتی ہیں ۔ حالات میں تبدیلی کے وقت کا تعین ، عمراور حادثات کی نشان دہی بھی

1) خط زندگی ہی کرتا ہے۔ ابھا قمر کی طرف اٹھنے والی گہری اور قدرے بڑی لکیریں بیرون ملک سفر کو بیان کرتی ہیں۔ علاوہ ان میں زندگی کی لکیر کی ابتدا میں چھوٹے چھوٹے جزیروں اور ہلکے دانوں کا پایا جاتا امراض گردہ اور سرجیکل بہار یوں کی وضاحت کرتا ہے۔ زندگی کی لکیر کے آخر میں چھوٹی چھوٹی کئی ایک شاخوں کا بھا قمر کی طرف رجحان جوڑوں کے در دو نقرص، گنٹھیا اور اعصابی و عضلاتی بیاریوں کو ظاہر کرتا ہے۔

2) ط دماغ۔ دماغ کی لکی سوچ نہ قوت حافظه، استدلال قوت تیلہ اور مشاہدات کو بیان کرتی ہے طبعی میلانات فطری رجحانات اورنی صلاحیتوں کا پتہ دیتی ہے۔ وہری دماغ کی لکیر دو گنا صلاحیتوں اور پروفیشن کے متعلق بتاتی ہے۔ دماغی لکیر پر جزیروں کا پایا جانا یا متوازی خطوط سے کٹا ؤاچانک حادثات، ذہنی خافشار اور عدم توجہ کا پتہ دیتا ہے۔ اسی طرح دماغی لکیر اور زندگی کی لکیر کے مشتر کہ آغاز پر جزیرے کا واقع ہونا ( ENT) ینی تاک، کان اور گلے کے امراض کو بیان کرتا ہے۔ اسی مقام پر چھوٹے چھوٹے زنیر نما جزیروں کی موجودگی حامل دست کے مزاج میں چڑچڑے پن اور حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کو ظاہر کرتی ہے۔

3) خط قلب؛ ۔ دل کی لکیر دلی جذبات، تعلقات ، محبت نفرت، ہمدردی، وفا ،سنگدلی جیسے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ دل کی لکیر سے نکلنےوالی شاخیں حائل کے حل چیک اور برائی ہونے کو بیان کرتی ہیں۔ دل کی لکیر پر جزیروں کا پایا جات امراض قلب کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ ہاں البته اگر دل کی لکیر پر مشت یا مربع کی علامات پائی جاتی ہوتو یہ بیماری کے بعد صحت مندی کے رجحان کو ظاہرکرتا ہے۔ ایسے افرادجو بائی پاس کے بعد نارمل زندگی گزار رہے ہوں ان کے ہاتھوں پر اس علامت کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

4) خطمت، صحت کی لکیر علم دوستی ، سائنسی رجحانات تحقیقات ملی تجربات اور انتظامی امور میں مہارت کو ظاہر کرتی ہے ۔ شمعونہ طب

سے وابستہ افراد کے ہاتھوں پر طمحت کا پایا جاتا شفارسانی کی صلاحیتوں کا عکاس خیال کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں خفی علوم کے ماہرین کے ہاتھوں پر بھی نا صحت کو میں دیکھا جاسکتا ہے۔ صحت کے حوالے سے ماہرین دست شناسی نے تھیلی پ ت

کی لکیر کی عدم موجودگی کو بہتر گردانا ہے۔ عام طور پر پیر جگر تلی اور پتہ سے وابستہ امراض کا پتہ دیتی ہے۔ خواتین کے ہاتھوں میں صحت کی دیگر امراض نسواں کو ظاہر کرتی ہے۔ دھیان رہے کہ محبت کی لکیر کی رنگت کا سیاہی مائل ہونا حامل کے لئے اچھاگن خیال نہیں کیا جاتا ۔ علاوہ ازیں خطمت کی سیاہی مائل رنگت ہی عائٹس ورم جگر کے بارے میں اشارات بھی فراہم کرتی ہے۔ قسمت قسمت کی لکیر ہمارے معاشی معاملات ، خوشحالی ، تنگ دستی کامیابیوں، ناکامیوں اور روپے پیسے سے جڑےمعاملات کو بیان کرتی ہے۔ پیر جس قد روشن، واح، پکدار، گہری اور مضبوط ہوگی اس قدر حامل دست خوش نصیب زیادہ ہوگا قسمت کی لکیر پر پائے جانے والے کھاؤ مالی اور کاروباری نقصانات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہاں البتہ اگر چوکور یا تکون کی علامات پائی جائے تو یہ خطرے سے بچاؤ کی علامت ہے۔ ایسے افراد جن کی قسمت کی لکیر ابھار قر سے نمودار ہوتی ہے وہ بسلسلہ روز گار بیرون ملک سفر کرتے ہیں ۔

علا وہ از سیر طبیعی بے چینی ، بے سکونی اور سفروں کے شوق کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ طشرت زندگی میں ملنے والی مقبولیت ، بد نامیاں، نیک نامیاں، معاشرتی جاه وجلال سیاسی مقام اور فنکارانہ صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ فنون لطیفہ ،ادب موسیقی فن مصوری کی خصوصیات کو بیان کرتا ہے۔ کامیابیوں اور ناکامیوں کے گراف کو بھی یہی لکیر ظاہر کرتی ہے۔

خط شادی ازدواجی معاملات ، شادی بیاہ اور ھر گرہستی سلسلوں کو ظاہر کرتی ہے۔ علاوہ ازیں کوئی مرد یا عورت تھی شادی بیاہ کرے گا بھی سہی لیکر بیان کرتی ہے۔ انسانی ہاتھ پر پائے جانے والے بھارات کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے۔

1) بھای مشتری: حکمرانی محمد روحانیت کی خوبیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

2) ابھارنس نے آرٹ فنون لطیفہ موسیقی اور کامیابیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ابھار صل۔ مال و دولت ، باغبانی اور مادی منصوبوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

4) ابھار عطارد۔ سائنس، معیشت، انتظامی امور اور صحت کے معاملات روشنی ڈالتا ہے۔

5) أبھا قمر ۔ سفر، جان، بے سکونی اور تذبذب و بہات کی عکاسی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں بھارتھر پر بے ہنگم اور اینڈ ی بینڈ ی لکیروں سے بنا ہوا جال امراض معدہ تھمہ تیزابیت، گیس اور اکثر اوقات اور م عدہ کو بیان کرتا ہے۔

6) بھارمریت – جنگ ، امین ، بہادری شجاعت منصوبہ بندی کو بیان کرتا ہے۔ مریخ کے ابھار پر پھیلی ہوئی لکیریں ذہنی ٹینشن،ڈپریشن پر پیشانی اور بی جے پی کو ظاہر کرتی ہیں۔ حال کے مزاج میں چڑ چڑے پن کوبھی بیان کرتی ہیں۔ 7) بھارژ برہ۔ رومانس ، محبت ،عشق، آرٹ شعروادب ، تعلقات جنس مخالف کے لئے کشش، اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ ابھارز برهکا نمک اور ضرورت سے زیادہ پکا ہوا ہوا بانجھ پن کی علامت خیال کی جاتی ہے۔ اسی طرح تھیلی کی رنگت ،ناخنوں کی بناوٹ اور رنگ بھی امراض ومحت کے بارے میں کافی حد تک معلومات فراہم کرتی ہے۔ ضروری نوٹ : عام دست شناسی واحد مظلوم شعبہ ہے جسے عام آدمی سے لیکر عالم فاضلاعتم کے لوگوں کی طرف سے طعن تشنیع کا سامنا رہتاہے۔

بہت سارے اعتراضات کے ساتھ ایک طعنہ جو دست شناسوں کو بڑے تواتر سے دیا جاتا ہے وہ یہ کہ دوسروں کی قسمت کا حال بتانے والے اپنے حالات کیوں نہیں بدل سکتے ؟ بھی فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے دست شناسوں کو دشنام طرازی سے نوازا جاتا ہے تو بھی عجیب و غریب لطائف بنا کر بیان علم کی ایک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم یہاں پرضروری سمجھتے ہوئے پروضاحت کیے دیتے ہیں علم ہو گی اور شعور و دانش کا دولت مندی وخوشحالی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تاریخ کے جھروکے میں ذرا سا جھانک کر دیکھا جائے تو ہم پر یہحقیقت وا ہوتیہے کہ سقراط و بقراط سے لیکر ارسطو وارمیدش تک احباب علم و دانش بغیر کسی بنک بیلنس، بنگلہ کار اور کوٹھی کے آج تک شعور وآگہی کے مینارة نور کی حیثیت سے جانے اور مانے جاتے ہیں ۔

اس حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ سکندر اعظم جیسے بادشاہ کی تمام تر کامیابیاں ارسطو کی مرہون منت تھیں ۔ دست شناسوں کو اپنی حالت سدھارنے کے مفت مشورے دینے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ رات کی تاریکیوں میں اجالوں کے رنگ بھرنے والا چاند اپنے چہرے پر لگے داغ نہیں مٹا سکتا۔ کوئی پھل دار درخت اپنا چل بھی نہیں کھا سکتا۔ سایہ دار درخت دھوپ میں جل کر دوسروں کو ٹھنڈی چھاؤں مہیا کرتا ہے لیکن خود اس سے محروم رہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ خالق کائنات نے تمام مخلوقات کے ن ے چندزےدار یاں لگارکھی ہیں۔ جنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ہر کوئی نبھانے کا پابند ہے۔ جس طرح گندم کے دانے سے چنے کا پودا ہیں آگ سکتا، آم کے درخت پر آڑوکا چل نہیں آ سکتا بالکل اسی طرح الله تعالی نے جس انسان کے نےجو کام لگایا ہے وہ اسے ہی کرنے کا پابند ہے۔

بقول شاعر۔ ہر چیز کو سمت کی اقسام ازل نے۔۔۔۔۔۔۔ جو شخص کہ جس چیز کے قابل نظر آیا

بلبل کو دیار و اتو پروانے کو جانا۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ہم کو دیا جو سب سے مشکل نظر آیا اب رہی بات اصل اور قتل کی تو ہم کہے دیتے ہیں کہ گیدڑ شیر کی کھال پہن کر شیر نہیں بن جایا کرتا جعل سازی ہر شعبے میں ہورہی

ہے۔ دست شناسوں میں بھی کئی موقع پرست اور جعلی لوگ شامل ہو کر دست شناسی کو بدنام کرنے کا سبب بن رہے ہیں تو اس میں صاحبان علوم فنون کا کیا قصور ہے جھوٹے اور مکار لوگوں کی وجہ سے میں علم اور اہل علم کی حقیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ جو کوئی، جہاں اور جس حال میں ہے وہ تو اپنے ذمے فرائض کی ادائیگی پر مامور ہے۔ قسمت ، نقد اور نصیب پر کب اور کس کا بس چلا ہے۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے

بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے تھے کہا تھا کہ رب سے جب بھی دعا مانگوتو مقدر مانگو عقل نہیں کیونکہ ہم نے بہت سے عقل والوں کو قدروالوں کے در پر دیکھا ہے۔ یاد میں قسمت دوطرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو انسان کو بناتی ہے۔ اسے خوب سے خوب تر مواقع سے نوازتی ہے۔

دوسری وہ جسے انسان خود بناتا ہے۔ زندگی میں ترقی کے نت نئے آئیڈیاز سوچ کر انہیں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ، دنیاوی اسباب میں رہتے ہائے محنت کرتا اور اپنی محنت کا چل پاتا۔ اس نظرئے کی تا سیمفسرین کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے تقدیر کی دو اقسام بیان کی ہیں۔

(1): تقدیر مبرم ۔۔۔۔۔۔۔

(2): تقدیر علق۔۔۔۔۔

تقدیر بر م کو غیرمشروط بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی ازل سے ابد تک کے تمام فیصلے لوح محفوظ پر لکھ دیے جاتے ہیں ۔ یہ وہ کام یا فیصلے ہوتے ہیں جن میں کسی قسم کی تبد یا ممکن نہیں ہوتی ۔ جبکہ تفقد متعلق کو مشروط بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا انحصار انسانی اعمال، کوششوں دعاؤں اور خواہشوں پر ہوتا ہے۔ یہ ہمارے اچھے یا برے اعمال کے نتیجے میں بدلتی رہتی ہے ۔ بعض اوقات ہماری کا میں بھی تقدم معلق کو تبد یل کر دیا کرتی ہیں۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بعض لوگ یغلیظ پروپیگنڈہ کرنے لگتے ہیں کہ جب سب کچھ اللہ کی مرضی سے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے تو پھر انسانی اعمال کی سزا کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور میں سب کچھ اللہ کے علم میں تو ہے مگر اللہ کے علم سے نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب حضرت علی سے کسی نے پوچھا تقدیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اپنی ایک ٹانگ اٹھاؤ ، سوال کرنے والے نے جب اپنی ایک ٹانگ اٹھالی تو آپ نے فرمایا اب دوسری ٹانگ بھی اٹھاؤ تو وہ کہنے لگا میں ایسا نہیں کرسکتا اگر کوشش کی تو گر جاؤں گا۔ حضرت علی نے فر مایا نہیں تقدیرہے۔ لیکن انسان با اختیار بھی ہے اور لا چاربھی ۔ لہذا بطور مسلمان ہمارا یہ یقین ہونا چاہیے کہ جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے اور اللہ اچھاہی کرتا ہے مستقبل ہیں یا پیشنیں گو صرف قسمت کے اس پہلو ک موضوع بناتے ہیں جوانسانی کاوشوں منتوں ، دعاؤں اور خواہشوں سے متعلقہ ہوتاہے۔

یا پھر تقدیر کا وہ جزو جسے انسان نے خود بنانا ہوتا ہے۔ ایک اور وضاحت کہ ایک دست شناس آپ کے ہاتھوں کی لکیروں کی روشنی میں آپ کے حالات و واقعات کو بتاتو سکتا ہے مگر ان میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا۔ کیونکہ قادر مطلق صرف اللہ کی ذات ہے، وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسا چاہے کرنے کی کمال قدرت رکھتی ہے۔ لہذا جعلی عاملوں اور کاموں سے فضول توقعات وابستہ کرنے کی بجائے صرف اللہ کی ذات بابرکات سے رجوع کرنا ہی بہتر ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی ذات سب کی دعائیں ہر جگہ، ہر وقت سنے اور قبول کرنے والی ہے۔

یا در فیس ادعا اور صدقہ دوا سے ڈرتے ہیں جو تقدیر کو بد لنے کا کمال سبب ہو سکتے ہیں۔

اپنے بارےمیں [email protected]

Check Also

کورونا وائرس:بزرگ ہی سب سے زیادہ متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

بڑھاپا بذات خود ایک بہت بڑی بیماری ہے جو انسان کو بے شمار مسائل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے