مرکزی صفحہ / کرنٹ افئیر / پیشاب بار بار آنے کی تکلیف

پیشاب بار بار آنے کی تکلیف

گوجر خان سے سلیمان لکھتے ہیں میری عمر 70 سال کے لگ بھگ ہے اور مجھے پیشاب بار بار آنے کی تکلیف لاحق ہے۔ ہروقت پیشاب کا پریشر رہ کرقطرہ قطرہ خارج ہوتا رہتا ہے جس سے میرے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں اور میں اپنی نماز یں ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ مجھے ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور فالج کی بیماریاں بھی ہیں۔ رات کو اٹھ اٹھ کر پیشاب کرنے سے نیند بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ کیا نیچروپیتھی میں ہائی بلڈ پریشر شوگر اور ان کا علاج بھی ممکن ہے؟ علا وہ از یں کیا میں ترش غذائی اجزا جیسے لیموں، اسٹابری، انار اور کینوں وغیرہ بھی استعمال کر سکتا ہوں۔ میرا مزاج گرم ہے اور میں چاہتاہوں آپ مجھے میرے طبیعت کے مطابق غذا، دوا اور پرہیز تجویز
کر دیں۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں میرے رہنمائی فرمادیں۔ مشورہ:۔
آپ کا مزاج گرم نہیں بلکہ مزاج میں سردی کے غلبے کے ساتھ خرابی واقع ہوگئی ہے، جس سے بدن میں حرارت کی یوٹلائز یشن مناسب نہیں ہو پارہی ، یہی وجہ ہے کہ آپ سردامراض کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں ۔سلسل البول ، فالج ، شوگر وغیرہ جیسی بیماریاں اعضاء رئیسہ میں سردی غالب آنے سے ہی حملہ آور ہوا کرتی ہیں ۔ لہذا نیچروپیتھی کے مطابق آپ کا مزاج گرم کی بجائے بار دسو کی طرف مائل ہے۔ برائے مہربانی سردمزاج کی غذائیں استعمال کر کے اپنے بدنی مسائل میں مزید اضافہ کرنے سے گریز کریں۔ پیشاب کی زیادتی میں کنٹرول کرنے والی ادویات اس لیے بھی اپنا اثر نہیں دکھا پاتیں کہ ہائی بلڈ پریشر میں استعمال ہونے والی دوائیں پیشاب آور ہوتی ہیں اور ان کی اثر پزیری کانتیجہ بھی پیشاب کھل کر آنے میں بھی سامنے آتا ہے۔ لہذا جب تک آپ بلڈ پریشر کی دوا کھارہے ہیں تب تک پیشاب کو
کم یا کنٹرول کرنے والی دوائیں بے اثر ہی رہنے کے امکانات ہیں ۔ ترش غذائی اجزاء کے استعمال سے آپ کو مزید جسمانی مسائل سے پالا پڑ سکتا ہے۔ آپ کے بیان کردہ بدنی مسائل کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کسی ماہر معالج سے مل کر اپنا مکمل چیک اپ
کروائیں۔ آپ کی جسمانی کیفیت اور بیماری کی نوعیت کا تقاضا باقاعدہ مستند علاج ہے۔
گھر یلوٹوٹکوں اور سنی سنائی دواؤں کا استعمال کر کے اپنا وقت صحت اور روپیہ پیسے مز ید ضائع نہ کریں

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

انتڑیوں کی سوزش سے کیسے بچیں?

تن آسان زندگی بہت سے بدنی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ فی زمانہ بہت سارے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے