مرکزی صفحہ / پامسٹری / ہاتھ کی اقسام

ہاتھ کی اقسام

تحریر:۔ نیاز عاصف آسٹرو پامسٹ 03334877939

انسان کو دیگر اوقات پر حاصل فوقیت اور برتری جہاں علم و زبان منتقل شعور، دانش ودانائی اور ہم وفراست کی صلاحیتیں ہیں وہیں یحقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ انسانی دماغ جونصو بے سوچا اور بتاتا ہے انہیں عملی جامہ اپنے ہاتھوں سے اپناتا ہے۔ انسانی خوابوں میں تعمیر کا رنگ اس کے ہاتھ بھرتے ہیں۔ آج کی تمام تر جد بدتر قیوں کا ہر انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو جاتا ہے۔ یوں ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کی تمام تر خوبصورتیوں کا واحد ذر یہ انسانی ہاتھ ہے۔ اگر ہاتھ انسانی دماغی منصوبوں کو ملی جامہ پہنانے میں اپنا کردارادا نہ کرتے تو آج جر دار تار کیا کہ دنیا بھر کے دور سے باہر نیکی کی ہوتی ۔ آیئے ہم اپنے ہاتوں میں بھی ان خوبیوں کے تعلق جانے کی کوشش کریں جن کو جان کر ہم اپنی د مانی و ذہنی صلاحیتوں، ماوی مواقعوں اور دیگر سہولیات کا بہتر سے بہتر استعمال کرنے والے بن جائیں۔ ہاتھ کے متعلق علم کو دست شناسی (palmistry) کہا جاتا ہے۔

پامسٹری میں انسانی ہاتھ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بعض اعتراض کرنے والے یہ کہتے ہیں تھکتے کہ ہاتھ کی لکیر میں تھیلی کھولنے اور بند کرنے سے وجود میں آتی ہیں جو کہ قیقت کے سراسر منافی ہے۔ کیونکہ انسان اور دیگر حیوانوں میں سب سے بڑا اور واضح فرق ہاتھ ہی ہیں اس لئے کہ انسان بھی حیوان ناطق ہے۔ ماہرین کے مطابق تمام جانداروں میں محبت نفرت، درگزر ، انتقام اور اپنے اچھے برے کی تمیز کرنے کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں لیکن وہ اپنے منصوبوں کو ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے پایته کمیل تک نہیں پہنچ پاتے ۔ جبکہ انسان مشا پرانی تیل کی صلاحیتوں کو ملی جامہ ہاتھوں کی مدد سے پہناتا ہے۔ لہذا ہم انسانی ارتقاء اور عروج کا سبب اگر ہاتھ کو ہیں تو ہرگز بے جانہ ہوگا۔

اگر کائنات کی وسعت اور ارتقائی مراحل پر غور کیا جائے تو کی حقیقت ہم پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ فضاؤں کو چیرتے ہوائی جہاز ، سمندروں کے سینوں پر دندناتے بحری جہاز اور سورج کی شعاؤں پر قابو پانے والے انسانی ہاتھ ہی تو ہیں ۔ چاند مریخ کے چہروں پر اپنی کامیابیوں کی مہر ثبت کرنے کا سہرا بھی انسانی ہاتھ کے سر جاتا ہے۔ ہم یہ کہنے میں ذرا ہم بھی تامل نہیں کرتے کہ انسانیت کی تمام تر کامیابیوں کا انحصار ہاتھ پر ہے۔ علاوہ ازیں جد ید دور کی ٹیکنالوجی موبائل، انٹر نیٹ اور سیٹلائیٹ وغیرہ کی ایجادبھی انسانی دماغ کے ساتھ ساتھ ہاتھ کے مرہون منت ہے۔ ہاتھ کا مشاہدہ کرتے وقت ماہر دست شناس ہاتھ کو حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں ۔ پہلے حصے میں ہاتھ کی بناوٹ تم اور اسکی ساخت ہوتی

ہے۔ انگلیوں کی اشکال و اقسام بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ جبکہ دوسرے حصے میں کھیلی اور اس پر واقع علامات نشانات اور ابھاروں کے تحت پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ ماہرین دست شناسی کے مطابق پامسٹری کے مندرجہ ذیل دو حصے ہیں ۔ دست شناسی (cheirognomy) ، کف شناسی (cheiromancy) دست معنی ہاتھ اور کف کے معنی تحصیلی کے ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر پامسٹری کو صرف دست شناسی کہا جاتا ہے۔ علمی رو سے دست شناسی میں صرف ہاتھ کی بناوٹ و ستم اور انگلیوں کی اقسام واشکال شاملہیں۔

جبکہ افت شناسی میں تھیلی تھیلی میں واقع لکیر ہیں، ابھار اور دیگر علامات ونش تات شامل ہوتے ہیں۔ دست شناسی اور کت شناسی با ہم لازم وملزوم ہیں ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ چین لکیروں کے بارے سرسری واقفیت حاصل کر لینے والے عقل کل ہونے کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ لکیروں کی معلومات سے زیادہ اہمیت ہاتھوں کی بناوٹ مشکل اور تم کی مانی جاتی ہے۔ کیونکہ آپ ہاتھوں کا بیرونی نظاروتو باآسانی کر سکتے ہیں۔ یوں دفتر میں اپنے ساتھیوں ، سفر میں اپنے ہمسفروں، بازار میں راہ گیروں اورگلی محلے کے لوگوں کے ہاتھوں کو دیکھ کر ان کے طور و اطوار اور عادات اور متحانات وغیرہ سے ہم آگاہی حاصل کرنے میں آرام سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لہذا ہمارے نزدیک

لکیروں سے زیا دہ ہاتھ بارے معلومات جانناز یا دہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہاتھ انسانی کردار کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں ۔ کسی ہاتھ ملاتے ہیں آپ حامل دست کی خوبیوں و خامیوں سے واقف ہو سکتے ہیں۔ دوستی ، وفاداری ،خلوص ،محبت، دیانت ،لاپی مطیع خود غرضی ، دھوکہ اور ہمدردی کے جذبات کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ گھر تھیلی کی لکیروں کو دیکھنے کے لیے حاصل کی مرضی کا ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ ہاتھ کا مشاہدہ آپ کی خواہش اور مرضی کے بغیر بھی کر سکتے ہیں ، اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں اور کمزوریوں سے واقف ہو سکتے ہیں ۔ ماہرین نے اقسام کے لحاظ سے ہاتھوں کی سات بڑی انواع بیان کی ہیں۔

(1) مربع با مفید ہاتھی

(2) پچپا ہاتھ

(3) فلسفی یا گرہ دار ہاتھ

(4) نفسیاتی خیالی ہاتھ

(5) فروٹی یا فن کارانہ ہاتھ

(6) لوطی ملک کا ہاتھ

(7) ابتدائی پانی ہاتھ ہاتھوں کی اقسام تفصیلی روشنی ہم آئندہ ماہ ڈالیں گے ۔

زیر نظر مضمون میں ہم ہاتھ اور ہاتھ سے متعلق علم کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کرتے ہیں ۔ ہاتھ بدن انسانی سبسے اہم عضو ہے۔ جس کے بارے میں مشہور ومعروف فلسفی ارسطو نے کہاتھا کہ ہاتھ انسانی اعضا ءکا بادشاہ ہے اور پی تمام جسمانی قوتوں کا علمبردار ہے ایک دوسرے مفکر کے بقول ”مردکا حسن اس کے ہاتھوں میں ہے‘ خالق کائنات نے انسانی جسم کی تخلیق میں ہاتھ اور دماغ کا تعلق اس طرح قائم کیا ہے کہ ہاتھ دماغ کے نوکر ہیں۔ قارئین! دست شناسی ایک ایسا آرٹ ہے جس کی باریکیاں علم کے متلاشیوں پر بندرتی اور سعی کے مطابق روز افزوں کھلتی چلی جاتی ہیں تحقیق و جستجو اور طلاب و پیاس جس قدر زیادہ ہوتی ہے طالبان مین اس کے علمی فیض اور برکات سے اس قدر جلد اور بہتر مستفید ہوتے ہیں ۔ علم کوئی بھی ہو یا ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔

ایام جو ماں کی گود سے لیکر قبر تک جاری رہتا ہے۔ علم عقل اور تھا کہ کسی کی میراث نہیں ہوا کرتے بلکہ بی خداوند کریم کی عطاء ہوتی ہے جسے چاہے وہ عطا کر دے۔

اسی طرح علم عقل اور تجر بلے کا عمر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا محلی ذات بابر کارت جسے چاہے۔ جس عمر میں چاہے قتل کی دولت سے نواز دے قبر سے نعمت عظیم عطا کر دے۔ ماہرین کے مطابق علم دوطرح کا ہوتا ہے۔ وہی اور ہیں۔ وہی علم سے خدائے پاک اپنے انبیاء کو بدر نیروی نوازتا ہے۔ اپنے پیاروں اور خصوس لوگوں کو الہامی کیفیات وخوانی حالات سے آگاہی دیتا ہے۔ اپنی علیم وخبیر صفات کی معرفت اپنے بندوں کو دنیاو مافیھاء سے باخبرکر دیتا ہے۔ کبھی علم انسان کی اپنی کاوشوں منتوں اور ریاضتوں کے مرہون نصیب ہوا کرتا ہے۔ جوئیندہ پائنیند “ کے مصداق جونت و مشقت کرتا ہے وہ اس کا بہتر صلہ پالیتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہی علم الله تعالی صرف اپنے پسند یدہ انسانوں کو عطا کرتا ہے جبکہ اسی علم کوئی بھی انسان اللہ کے پسندیدہ کام اپنا کر حاصل کرسکتا ہے۔

اسی طرح انسان میں الله تعالی نے طے شدہ پروگرام کے تحت خوبیاں اور خامیاں ودیعت کر رکھی ہیں ۔ خیر شر اور نیکی وبدی کو انسانی جبلت کا حصہ بنا دیا۔ چونکہ انسان حیوان ناطق ہے لہذا اسے علم و کی عقل و شعور ہم وفراست ، حکمت و دانائی اور قوت گویائی عطا کر کے دوسرے حیوانوں سے ممتاز کر دیا۔ اچھے برے میں تمیز کرنے نفع و نقصان میں فرق محسوس کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال کر کے اسے یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ جو راستہ چاہے تب کرے۔

خیر اور نیکی کی راہ کامیابی کی راہ ہے اور سب سے بڑی نیکی دوسروں کو نفع پہنچاتا ہے۔ ایک حدیث نبوی کا مفہوم ہے تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو انسانوں کے لیےنفع رساں ہے۔ لہذا ہم اپنی علمی قابلیتوں، شیریں لفظوں اور اچھے کاموں سے انسانوں کی پریشانیوں کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ شاید ہی کوشش میں حقیقی خیر اور کچھ نیکی کے راستے پر ڈال ہے۔ کیونکہ خیر اور نیکی کی راہ اپنانے والے ہی دنیا میں بھی ہر دلعزیز بن کر جیتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی سرخرو و کامران ہوتے ہیں۔ جاری ہے

اپنے بارےمیں [email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے