مرکزی صفحہ / Uncategorized / پامسٹری کیا ہے

پامسٹری کیا ہے

ہمارے ہاں عام طور پر ہاتھ کی لکیروں سے تعلق عوام الناس بہت کم معلومات رکھتے ہیں ۔ ہاتھ اور تھیلی کے علم کو دست شناسی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جبکہ جد بیعلمی تحقیقات اور سائنسی معروضات کی بدولت ما بر این دست شناسی نے علمی لحاظ سے پامسٹری کو مزید آسان اور عام فہم بنانے کی غرض سے درج ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا ہے۔

(1) سادہ پامسٹری (simple palmistry): تھیلی پر پائے جانے والے نشانات ابھارات اور کیمروں کا مشاہدہ کرتا سادہ پامسٹری

۔ (1) سادہ پامسٹری (simple palmistry): تھیلی پر پائے جانے والے نشانات ابھارات اور کیمروں کا مشاہدہ کرتا سادہ پامسٹری

کے زمرے میں آتا ہے۔ سادہ پامسٹری کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اول کیرو نوی (cheirognomy) دوم کیر وینسی (cheiromancy) پہلے حصے میں ہاتھ کی بناوٹ ، ہاتھ کی اقسام، انگلیوں کی اشکال وغیرہ شامل ہیں ۔ جبکہ دوسرے تھے میں تھیلی تھیلی میں واقع لکیریں، ابھارات اور دیگر علامات ونشانات شامل ہوتے ہیں۔

(2) سائکوپامسٹری(psycho palmistry) :- پامسٹری کی اس شاخ کے تحت نفیائی تھی مشاہدہ پایا جاتا ہے۔ دینی شعوری حالات ، دلچسپیاں اور عادات ،فطری رجحانات بھی میلانات اور طور اطواربھی سائیکو پامسٹری میں ہی زیر بحث لائے جاتے ہیں۔

(3) آسٹرو پامسٹری (astro palmisty):- زندگی میں پیش آنے والے حادثات و واقعات ،اہم معلومات زندگی کی مختلف جہات اور رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں کے بارے میں آسٹرو پامسٹری کی مد د سے ہی تعین کیا جاتا ہے۔ شادی بیاہ تنگی و خوشحالی اور معاشرتی وسای تبدیلیوں کے بارے میں بھی ہمیں آسٹرو پامسٹری سے ہی آگای میسر آتی ہے۔

(4) میڈ یکل پامسٹری(medical palmistry : تن درستی و بیماری صحت و مرض اور دیگر جسمانی وروحانی تبدیلیوں کے اوقات مقررہ کی نشاندہی میڈ یکل پامسٹری سے کی جاتی ہے۔ مرض کے دورانیے سے لیکر صحت یابی کی مدت کے تعلق بھی اسی کے تحت معلومات

حاصل ہوا کرتی ہیں۔ پامسٹری کیمز کوره ای شاخوں کی وضاحت سے شائقین پامسٹری کے لیے اسے جتنا بھی آسان ہو جائے گا قبل از یہ تھیلی پرواقع روی

کیروں اور بھاروں سے متعلق معلومات څختصر مگر جامع طور پر سر قلم کی جا چکی ہیں۔ اب ہم انسانی ہاتھ پر پائے جانے والے چندرا ہم دیگر نشانات کے بارے تحریر کرتے ہیں۔ ان میں حلقہ ہرہ ،حلقہ حل، خط وجدران خط عیاشی اور حلقه مشتری شامل ہیں ۔ ہاتھ کا مشاہدہ بناتے اور بتاتے وقت بی علامات پامسٹ کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتوں میں اعتماد علمی قابلیتوں میں نکھار اور وجدانی و الہامی قوتوں کو بیدار کرتی ہیں۔ اگر چہ بڑی اور معروف علامات کی بناوٹ شکل اور جہت کو پیش نظر رکھ کر بھی مشاہدہ بنایا جاتا ہے لیکن معلومات کی وضاحت اور صداقت کو پر اثر بنانے کے لیے ان نشانات کی موجودگی یا عدم موجودگی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ ماہر اور مجھدار پرو فیشنلر مشاہد ہ بناتے وقت ہاتھ کی چھوٹی بڑی تمام علامات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی پیش گالی کرتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہو گا ایسےماہرین کی آرا وی قابل اعتبار از چشم کشا ہوا کرتی ہیں۔

خط عیاشی ( vialasciva):- اسے نفس پرستی کی کی بھی کہا جاتا ہے۔ می را بھا قمر سے نمودار ہو کر ان کی شکل میں زہرہ کے ابھار کی طرف رخ کرتی ہے۔ عام طور پر اس کے تعلق رائے کچھ بھی نہیں رکھی جاتی ۔ اسے شہوانی خیالات اور بے ہودہ جذبات کی نمائندہ بجھا جاتا ہے۔ بیان کی طبیعت میں شباب شراب کی طلب پیدا کرتی ہے۔ جواری اورشئی افراد کے ہاتھوں پر اسے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ زندگی میں عیش پرستی کا رجحان زیادہ ہونے اور انجام کار سے غفلت و لاپرواہی ہونے کے سبب طبعی عمر میں کمی ہونے کی اطلاع بھی یہی علامت فراہم کرتی ہے۔ جب میرا بھارژ بہرہ میں داخل ہو جائے تو یہ بہت خطرناک حد تک نقصان دہ ثابت ہوا کرتی ہے۔ ہاں البتہ اگر اس کارخ کلائی کی جانب مر جائے تو یقدرے کم خطر نا ک ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

خط وجدان (line of intuition) اسے کشف کی لکیر کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ یقدرے کمیاب علامت ہے اور شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا کرتا ہے۔ یہ خط عطارد کے ابھار سے طلوع ہو کر نیم دائرے کی شکل میں ابھا قمر کی طرف رخ کرتا ہے۔ بی خط صحت کی موجودگی میں الگ سے عدہ صاف اور واضح دکھائی دیا کرتا ہے۔ خط کشف اپنے نام کی مناسبت سے حال میں رازوں کو جان لینے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ایسے افرادر وحانیت کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ خفیہ اور باطنی علوم جیسے نجوم مارال ، دست شناسی اور علم الاعداد وغیر ہ پر غیر معمولی عبور کے حامل ہوتے ہیں ۔ خط کشف کے ما لک افراد از حد حساس اور نرم و نازک ہونے کی وجہ سے اپنے گردوپیش

۔ خط عیاشی ( vialasciva):- اسے نفس پرستی کی کی بھی کہا جاتا ہے۔ می را بھا قمر سے نمودار ہو کر ان کی شکل میں زہرہ کے ابھار کی طرف رخ کرتی ہے۔ عام طور پر اس کے تعلق رائے کچھ بھی نہیں رکھی جاتی ۔ اسے شہوانی خیالات اور بے ہودہ جذبات کی نمائندہ بجھا جاتا ہے۔ بیان کی طبیعت میں شباب شراب کی طلب پیدا کرتی ہے۔ جواری اورشئی افراد کے ہاتھوں پر اسے بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ زندگی میں عیش پرستی کا رجحان زیادہ ہونے اور انجام کار سے غفلت و لاپرواہی ہونے کے سبب طبعی عمر میں کمی ہونے کی اطلاع بھی یہی علامت فراہم کرتی ہے۔ جب میرا بھارژ بہرہ میں داخل ہو جائے تو یہ بہت خطرناک حد تک نقصان دہ ثابت ہوا کرتی ہے۔ ہاں البتہ اگر اس کارخ کلائی کی جانب مر جائے تو یقدرے کم خطر نا ک ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

خط وجدان (line of intuition) اسے کشف کی لکیر کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ یقدرے کمیاب علامت ہے اور شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا کرتا ہے۔ یہ خط عطارد کے ابھار سے طلوع ہو کر نیم دائرے کی شکل میں ابھا قمر کی طرف رخ کرتا ہے۔ بی خط صحت کی موجودگی میں الگ سے عدہ صاف اور واضح دکھائی دیا کرتا ہے۔ خط کشف اپنے نام کی مناسبت سے حال میں رازوں کو جان لینے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔ ایسے افرادر وحانیت کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ خفیہ اور باطنی علوم جیسے نجوم مارال ، دست شناسی اور علم الاعداد وغیر ہ پر غیر معمولی عبور کے حامل ہوتے ہیں ۔ خط کشف کے ما لک افراد از حد حساس اور نرم و نازک ہونے کی وجہ سے اپنے گردوپیش

حالات و واقعات سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں شاید اسی لیے وہ ز یا دہ تر بے چین اور مضطرب ہی رہتے ہیں۔

حلقہ بہرہ(gridle of venus) بھی کیا بانشان سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلی اور درمیانی کے درمیان سے ظاہر ہوکر تیسری اور چھوتی انگلی کے سنگم پر ختم ہونے والی نصف دائرہ نما لکیر ہوتی ہے۔ بی حال کی دیگر صلاحیتوں میں اضاسنے کاذری بنتی ہے۔ اسے عام طور پر ہوت رانی کی علامت سمجھا جاتا ہے جو کہ درست نہ ہے۔ کیونکہ بی ضروری نہیں کہ ہر ہاتھ پر اس کا مطلب ایک جیساہی ہو۔ جب یہ علامت واضح ،صاف اور نمایاں ہو تو یہ پیار محبت اور رومانوی جذبات میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس لکیر کی موجودگی صاحب نشان کی فطری طور چنس مخالفت میں ہیں اور غربت کو بیان کرتی ہے۔ اگر یہ بڑھتی ہوئی خط شادی تک جا پن تا حال اپنے جیون ساتھی سے عجیب و غریب تم کی توقعات وابستہ کر لیتا ہے۔ ایسی تو قعات جن پر پورا اتر تا گوشت و پوست سے بنے انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ یوں حال کی ازدواجی خوشیاں بے کیفی کا شکار ہو کر اسے کئی ایک الجھنوں میں الجھا دیتی ہیں ۔ علاوہ ازیں اس علامت کے ما لک افرادضرورت

حالات و واقعات سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں شاید اسی لیے وہ ز یا دہ تر بے چین اور مضطرب ہی رہتے ہیں۔

حلقہ بہرہ(gridle of venus) بھی کیا بانشان سمجھا جاتا ہے۔ یہ پہلی اور درمیانی کے درمیان سے ظاہر ہوکر تیسری اور چھوتی انگلی کے سنگم پر ختم ہونے والی نصف دائرہ نما لکیر ہوتی ہے۔ بی حال کی دیگر صلاحیتوں میں اضاسنے کاذری بنتی ہے۔ اسے عام طور پر ہوت رانی کی علامت سمجھا جاتا ہے جو کہ درست نہ ہے۔ کیونکہ بی ضروری نہیں کہ ہر ہاتھ پر اس کا مطلب ایک جیساہی ہو۔ جب یہ علامت واضح ،صاف اور نمایاں ہو تو یہ پیار محبت اور رومانوی جذبات میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس لکیر کی موجودگی صاحب نشان کی فطری طور چنس مخالفت میں ہیں اور غربت کو بیان کرتی ہے۔ اگر یہ بڑھتی ہوئی خط شادی تک جا پن تا حال اپنے جیون ساتھی سے عجیب و غریب تم کی توقعات وابستہ کر لیتا ہے۔ ایسی تو قعات جن پر پورا اتر تا گوشت و پوست سے بنے انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ یوں حال کی ازدواجی خوشیاں بے کیفی کا شکار ہو کر اسے کئی ایک الجھنوں میں الجھا دیتی ہیں ۔ علاوہ ازیں اس علامت کے ما لک افرادضرورت

سے زیا دہ حساس ہونے کی وجہ سے ہمہ وقت پریشانیوں میں گھرا ہے گا۔ انتہائی ذہین اور باشعور ہونے کے باوجود بات بے بات آپے سے باہر ہو جانے والا ہو گا۔ مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہو کر موڈ کوخراب کرتا رہے گا۔

حلقہ حل (gridle of saturn) بینیم دائرے کی شکل کا نشان ابھار وحل پر واقع ہوتا ہے۔ یھی کم کم ہی ہاتھوں پر پایا جاتا ہے۔ اسے ماہرین منحوس خیال کرتے ہیں ۔ پی سی بھی ہاتھ پر منصوبوں میں رکاوٹ ، کاموں میں تاخیر اور ارادوں میں کمزوری کا باعث بنتا

ہے۔ اس علامت کے حاملین زندگی میں اکثر و بیشتر کی جانے والی محنت کے شر سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے کاموں میں غیرمحسوں طریقوں

اپنے بارےمیں [email protected]

Check Also

قوت مدافعت بڑھانےوالی چند غذائیں اور روز مرہ معمولات

انسان کی تخلیق فطرت پر ہوئی ہے اور اس کی بقاء و قیام کےلیےفطری اصولوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے