مرکزی صفحہ / کرنٹ افئیر / معدے کی تیزابیت سے بچائو

معدے کی تیزابیت سے بچائو


کوئٹہ سے فاروق احمد لکھتے ہیں کہ میری عمر 42 سال ہے اور مجھے معدے کی تیزابیت کا سامنا ہے۔ میرے زبان پر ہمیشہ سفید رنگت کی تہہ جمی رہتی ہے۔ میری آنکھوں اور معدے میں جلن کا شدید احساس ہوتا ہے یہاں تک کہ بول براز کرتے وقت بھی چبھن سی ہوتی ہے۔ دودھ پینے ، پھل اور کچی سبزیاں کھانے سے معدے میں تبخیر پیدا ہونے لگتی ہے۔ براہ کرم میری علامات کو دیکھتے ہوئے مجھے غذاوپر ہیز میں رہنمائی فرما دیں۔
مشورہ:
تیزابیت اور تبخیر دوالگ الگ معدے کے عوارض ہیں اور ان کے پیدا ہونے کے اسباب اور غذائی عادات مختلف ہوا کرتی ہیں۔ تاہم بعض افراد میں غیر فطری طرز خورو نوش کے باعث مزاج کا بگاڑ پیدا ہوکر تیزابیت اور تبخیر کی ایک ساتھ علامات کا پیدا ہو جانا ممکن ہوتا ہے۔ تیزابیت معدے میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب تیز مسالہ جات تلی بھنی، فاسٹ فوڈز ، گوشت، بریانی اور گرم وخشک مزاج والی غذائی بکثرت اور تواتر سے استعمال کی جائیں اور ریشے دار غذائی اجزاء کی مقدار بہت کم خوراک میں شامل کی جائے ۔ تیزابیت کی علامات میں معدے اور غذا کی نالی میں جلن، آنکھوں کی سرخی ، ہاتھ پاؤں کے تلووں میں سڑن بعض اوقات شدید بھوک و پیاس کا لگنا وغیرہ شامل ہیں ۔ تبخیر پیدا ہونے کے اسباب میں مزاج سردی اور تری کے بڑھ جانے کے ساتھ ساتھ تیل اور غلیظ غذائی اجزا جیسے، آلو اور آلو کے چیں، گوبھی ،اروی بھنڈ ی ، دال ماش ، میدے سے بنی اشیاء، کولڈ ڈرنکس کا زیا دہ استعال، یخ ٹھنڈا پانی پینے ، کھانے کے فوری بعد لیٹنے سونے ، نہانے، سخت کام کرنے اور نہاتے ہی پیٹ بھر کر کھانے یا ٹھنڈے ٹھارمشروب پینے کی عادت سے معدے میں تبخیر کی علامات پیدا ہو جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلسل اسبغول کا چھلکا کھانے والے خواتین و حضرات بھی کچھ عرصے کے بعد تبخیر
کے عارضے میں پھنس جاتے ہیں۔ اسبغول میں شامل سردی اور تری معدے کے مزاج میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے۔ چھلکا اسبغول استعمال کرتے وقت دھیان رکھا جائے کہ ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہ کھایا جائے۔ اسبغول کو ٹھنڈے پانی میں تو بالکل بھی نہیں کھانا چاہیے انتہائی ضروری حالت میں سوتے وقت نیم گرم دودھ میں دو روغن بادام ملا کر اسبغول کی ایک چمچی شامل کر کے استعال کی جاسکتی ہے۔ جن افراد کی انتڑیوں میں فاضل رطو بات جمع ہو نے کار جحان اور دائمی قبض کا مرض ہوان کو بھی تبخیر کی علامات سے پالا پڑ سکتا ہے۔ تبخیر سے بچنے کے لیے سب سے پہلے انتڑیوں کو فاضل رطو بات سے صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سنامکئی دوحصے ، گلاب کی پتیاں ایک حصہ اور سونف ہم وزن سفوف بنا کر کوئی بھی رات کو نیم گرم پانی کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔ ہفتے عشرے کے بعد پیٹ کی غلاظتیں صاف ہو کر انتڑیوں کی کارکردگی بحال ہونے لگے گی۔ تیزابیت سے نجات پانے کے لیے ادرک کا قہوہ دن میں دو بار پینا بہترین علاج ہے۔ خوراک میں ہلکی ، سادہ اور کم سے کم غذا کھانا ہی مفید ہوتا ہے۔ گندم اور جو کادلیه ‘گندم کادلیہ ، دال مونگ ، مولی کالے چنے اور شور به اور چپاتی وغیرہ بہترین غذائیں ہیں ۔ جب بیماری کی علامات ختم ہو جا ئیں تو خوراک میں تمام غذائی اجزاء کی مناسب مقدار شامل کی جاسکتی ہے۔

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

انتڑیوں کی سوزش سے کیسے بچیں?

تن آسان زندگی بہت سے بدنی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ فی زمانہ بہت سارے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے