مرکزی صفحہ / کرنٹ افئیر / کھوٹےاورکھرے کی پہچان

کھوٹےاورکھرے کی پہچان


پاکستان میں طب اور طبیب واحد مظلوم طبقہ ہیں جن پہ تقریباََ ہر شعبے کے لوگ تسلسل سے طبع آزمائی کرتے عام پائے جاتے ہیں۔حجام سے لیکر موچی تک،راہ گیر سے لیکر فقیر ہر ایک بزعم خود ماہر’’نباتات‘‘بنا پھرتا ہے۔ستم بالائے ستم تو یہ کہ’’ بسوں‘‘ میں ایسے لوگ جنہیں جڑی بوٹیوں کے ناموں کے تلفظ کی ادائیگی تک نہیں آتی وہ ایک ہی دوا سے بدن انسانی کے تمام تر امراض کا علاج کرتے عام پائے جاتے ہیں۔چوراہوں میں نوسر باز قسم کے لوگ اپنی چرب زبانی کے زور پر اور انسانی نفسیاتی کمزوریوں کے تحت سرِ عام لوگوں کو بے وقوف بنا تے پھرتے ہیں۔ایسے میں جب ان مبینہ افراد کی نوسر بازی کی زد میں کوئی بھی آتا ہے تو طعن و تشنیع کا نشانہ طب اور طبیب کو بنایا جاتا ہے۔کتنی ناانصافی اور غیر اخلاقی بات ہے کہ جن کا طب سے دور کا بھی واستہ نہیں ان کی غلطی کا خمازہ اہل علم و فن کو بھگتنا پڑتا ہے۔علاوہ ازیں کوئی فرد بازار میں دستیاب جنسی ادویات کا غیر ضروری اور over dose استعمال کر کے’’ خود کشی‘‘ کرتا ہے تو اس کا الزام بھی طب اور طبیب کے سر باندھ دیا جاتا ہے۔ اس پہ مستزاد یہ کہ آج کل حکومت نے ڈریپ کے نام سے ایک اور ننگی تلوار طب اور طبیب کے سر پہ لٹکا دی ہے۔ایک ایسا معاشرہ جہاں پہلے سے ہی صاحبان علم و فن اطبا کو اپنی روزی روٹی اور اپنے اسلاف کی ناموس کو بچانے کے لیے ہر روز ایک نئی ’’جوئے شیر‘‘ بہانا پڑتی ہو اس پہ ڈریپ کی شکل میں بھاری بھرکم فیسوں کا بوجھ بھی طبیب پہ ڈال دیا گیا ہے۔ پاکستان میں شعبہ طب کی مخدوش الحالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ایسے میں ملک بھر میںہزاروں کی تعداد میں نیم حکیم ،عطائی اور جعلی معالجین انسانی جانوں سے کھلے عام کھلواڑ کر رہے ہیں۔آئے روز میڈیا میں درجنوں خبریں آتی ہیں۔ ایک رپورٹ میں پاکستان میں صحت کے حوالے سے شائع شدہ حقائق کچھ یوں ہیں۔ 1206 لوگوں کے لیے ایک ڈاکٹر، 1665 مریضوں کے لیے ہسپتال کا ایک بیڈ اور 1667لوگوں کے لیے ایک نرس دستیاب ہے۔ صحت کا بجٹ آج بھی مایوس کن حد تک ناقابل بیان ہے۔ جب صحتِ عامہ کے لیے طبی سہولیات کا یہ عالم ہوگا تو پھر آپ خود ہی بتائیں کہ لوگ جعلی ڈاکٹرز،نیم حکیموں اور عطائیوںکے پاس نہ جائیں تو کہاں جائیں۔مذکورہ مسائل اپنی جگہ تلخ حقیقت تو ہیں ہی مگر ہمارے ملک میں خود معالجاتی طرزِ عمل کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے لوگ بذاتِ خود بیماریوں کو دعوت دیتے ہیں،غلط کام وہ خود کرتے ہیں اور اس کا الزام حکیموں پر ڈال دیتے ہیں۔ بسوں میں ایک ہی دوا سے تمام بیماریوں کا علاج کرنے والے سے لیکر بیچ چوراہے مجمع لگانے والے تک صدری نسخوں کے دعویدار موچی اور حجام سے لیکر نیم حکیموں کی طبع آزمائیوں سے متاثر ہونے والے موردِ الزام صرف اور صرف حکیم کو ہی ٹہراتے ہیں۔اب اگر کوئی کسی موچی،نائی یا مداری کا صدری ’’کشتہ ‘‘کھا کر اللہ کو پیارا ہو جائے تو اس میں بھلا کسی کوالیفائڈ طبیب کا کیا قصور ہوا؟یہ بھی ایک روشن حقیقت ہے کہ آج اس جدید اور سائنسی دور میں بھی تقریباََ 80% پاکستانی طب،طبیب اور اسی طرح کے دیگر لوازمات پر بھروسہ کرتے عام پائے جاتے ہیں۔یہ صرف پاکستان کی حد تک ہی نہیں بلکہ جدید دور کا ’’پڑھا لکھا انسان ‘‘پوری دنیا میںجدید ادویات کے مبینہ سائیڈ افیکٹس اور ان کے ما بعد اثرات سے تنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ مما لک میں متبادل طریقہ علاج کے نام پر لوگ روائتی ادویات اور قدیم نباتات کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ایسے میں جب پوری دنیا طب اور طبیب سے با لواسطہ یا بلا واسطہ استفادہ کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے پاکستان میں طب اور طبیب کی راہیں مسدود کرنا چہ معنی دارد؟جدید طب اور قدیم طب پر یکساں اصولوں کے تحت قو انین،اصول وضوابط کا نفاذ قرینِ انصاف نہیں دکھائی دیتا۔وہ اس لیے کہ ملک میں ہیلتھ پالیسیز اور دیگر مراعات صرف ایلو پیتھی معالجین کے لیے فرا ہم کی جاتی ہیں۔بڑے بڑے ہسپتال،کروڑوں اربوں کی گرانٹس کے اعلانات بھی ان کے لیے ۔ خدارا ! خد متِ خلق کے شعبے کواس دہرے معیار قانون کی زد سے محفوظ رکھیے۔ اطبا کے لیے تو 18 کروڑ کی آبادی کے ملک میں صرف چند گنی چنی طبی ڈسپنسریاں ہیں اور وہاں بھی گنتی کے چند اطبا کو روزگار میسر ہے جبکہ دیگر تقریباََ60 ہزار اطبا اپنی مدد آپ کے تحت مقامی جڑی بوٹیوں پہ انحصار کرتے ہوئے ملک کی دو تہائی آبادی کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ہم حکومتی زعماء ،محکمہ صحت کے ذمے داران ،پالیسی سازوں ، ملکی دانشوروںاور دیگر سٹیک ہولڈرز سے دست بدستہ التماس کرتے ہیں کہ اس حقیقت کا ادراک سبھی بخوبی کر لینا چاہیے کہ جب تک نیچرو پییھی (قدیم طب ) کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا صحت کے یہ مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے کی تین چوتھائی آبادی جس طرزِ علاج پر انحصار کرتی ہو ،اس کی سوچ ،طرزِ فکر اورطرزِ زندگی بدلنا کچھ آسان نہیں ہو سکتا۔ہم پڑھے لکھے حکیموں اور ہومیو پیتھکز کو جدید طرز کے ریفریشر کورس کروا کر ان سے بہتر طبی سہولیات کا آئوٹ پٹ لے سکتے ہیں۔نیچرو پیتھی(طبِ قدیم) ہماری روایت ہے ،ہمارا ورثہ ہے بلکہ ہماری مذہبی تعلیمات کا جزوی حصہ ہے،میری ناقص رائے میں اسے چھوڑنا اگر ممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور ہے ۔لہٰذا طب اور طبیب کی بیخ کنی کی بجائے ان کی آبیاری کیجیے،اطبا پر لاگو کی جانے والی بھاری بھر کم فیسوں کو ختم کر کے ملک و قوم کے دیرینہ صحت کے مسائل میں کمی کرنے کا اعلان کیجیے۔ قانون سازی کی ضرورت تو نیم حکیموں اور عطائیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تھی۔مسیحائی کے نام پر انسانی جانوں کو کاروبار کرنے والے ان انسان نما درندوں کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی ضرورت تھی۔جو علاج معالجے کی آڑ میں انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں۔وہ آج بھی اپنی بھرپور ’’کار کردگی‘‘ سے اپنے کام میںمشغول ہیں۔میری ایک بار پھر وزیرِ صحت،محکمہ صحت اور دیگر حکومتی زعما سے گزارش ہے کہ آپ کوالیفائیڈ اطبا اور نیم حکیموں کو ایک ہی نظر سے خدارا ہر گز نہ دیکھیں۔کھرے اور کھوٹے کے مابین فرق کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اطبا کی آواز کو ’’آوازِ خلق نقارہ خدا‘‘کے مصداق سنیں اور ان کے دیرینہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری ان معروضات پہ غور کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ اور ذمے داران لوگ ضرور پیش رفت کریں گے تاکہ عوام الناس کے طب و صحت کے مسائل میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکے

اپنے بارےمیں حکیم نیاز احمد ڈیال

Check Also

انتڑیوں کی سوزش سے کیسے بچیں?

تن آسان زندگی بہت سے بدنی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ فی زمانہ بہت سارے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے